نجات دہندہ مسیح کے مجسمے پر آسمانی بجلی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برازیل کے شہر ریو ڈی جنئیرو کے مشہور نجات دہندہ مسیح کے مجسمے پر آسمانی بجلی گرنے سے مجسمے کے انگوٹھے کو نقصان پہنچا ہے۔

مجسمے کے دائیں ہاتھ والے انگوٹھے پر ایک طوفان کے دوران جمعرات کو آسمانی بجلی گری۔

یاد رہے کہ یہ مجسمہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنئیرو کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی مشہور ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔

اس مجسمے کی کل اونچائی 125 فٹ ہے۔

آرچ ڈائیوسس آف ریو جو اس مجسمے کا انتظام سنبھالتا ہے نے برازیل کے میڈیا کو بتایا کہ اس مجسمے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت جلد کی جائے گی۔

اس مجسمے کو دیکھنے کے لیے ہر سال بیس لاکھ سیاح آتے ہیں اور 2010 میں اس پر 40 لاکھ ڈالر کی لاگت سے بحالی کا کام کیا گیا تھا۔

جمعرات کے طوفان کے دوران برازیل میں آسمانی بجلے گرنے کے اب تک کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے جس کا ریکارڈ 1999 کے بعد سے رکھا جانا شروع کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعرات کو برازیل میں آسمانی بجلی کے 40000 کوندے ریکارڈ کیے گئے

برازیل کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے خلائی تحقیق نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اس مجسمے پر سال میں پانچ بار سے زیادہ آسمانی بجلی گرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مجسمے کا انتظام سنبھالنے والے چرچ کا کہنا ہے کہ مجسمے پر پہلے بھی بجلی گر چکی ہے

اس مجسمے کا افتتاح 12 اکتوبر 1931 میں ریو کے ماؤنٹ کورکاویدو کی چوٹی پر کیا گیا اور یہ دنیا کا آرٹ ڈیکو سٹائل مجسموں میں سب سے بڑا مجسمہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ مجسمہ برازیل کے مشہور ترین مقامات میں سے ایک ہے

یاد رہے کہ آرٹ ڈیکو کی تحریک جنگِ عظیم اول کے بعد شروع ہوئی اور 1930 سے 1940 تک اس کے عروج کا زمانہ تھا جس کے بعد جنگِ عظیم دوم نے اس کا خاتمہ کیا۔

اسی بارے میں