اقتدار سے علیحدگی موضوعِ بحث نہیں ہے: بشار الاسد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خلاف مارچ سال 2011 سے پرتشدد تحریک جاری ہے

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ان کا اقتدار سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یہ معاملہ اگلے ہفتے جنیوا ہونے والے مذاکرات میں موضوعِ بحث نہیں ہے۔

روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق صدر بشار الاسد نے دمشق میں روسی اراکینِ پارلیمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہم نے ہتھیار ڈالنے ہوتے تو ہم ابتدا میں ہی ایسا کر دیتے۔‘

یاد رہے کہ شامی حکومت، حزبِ اختلاف کے گروہ اور مغربی سفارت کار سوئٹزرلینڈ میں اگلے ہفتے مذاکرات کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر مونتروغ میں ہونے والے امن مذاکرات میں شام کی مرکزی سیاسی حزبِ اختلاف ’شامی قومی اتحاد‘ کے شرکت کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

امریکی وزیرخارجہ کے علاوہ اس ’جرات مندانہ‘ فیصلے کی برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں نے بھی تعریف کی ہے۔

ان مذاکرات کا مقصد شام میں خانہ جنگی ختم کر کے عبوری حکومت کے قیام کی منصوبہ بندی کرنا ہے جہاں تین سال سے جاری اس شورش میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چند اندازوں کے مطابق 20 لاکھ سے زیادہ افراد ملک سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور 65 لاکھ افراد ملک کے اندر ہی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شامی حکومت کا کہنا ہے اس پر مذاکرات کے لیے کسی قسم کی پیشگی شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں

جان کیری اس وقت ترکی کے دورے پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ انتہائی جرات مندانہ ہے اور اسد حکومت کے مظالم اور خانہ جنگی سے دوچار شامی عوام کے فائدے میں ہے۔‘

برطانوی وزیرِ خارجہ نے اس ایک مشکل فیصلہ قرار دیا اور اس بات کی تائید کی کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔

اس سے پہلے شام کی مرکزی سیاسی حزبِ اختلاف ’شامی قومی اتحاد‘نے مذاکرات میں شمولیت پر رضامندی کے فیصلہ کا اعلان کیا تھا جو کہ ایک ووٹ کے بعد کیا گیا۔ شامی قومی اتحاد کے 58 مندوبیں نے اس کی حمایت کی جبکہ 14 اس کے خلاف تھے۔

شامی قومی اتحاد 120 اراکین پر مشتمل ہے اور نصف سے زیادہ اراکین اس ووٹ کی مخالفت کے بعد اس میں شریک نہیں ہوئے۔

اتحاد کے سربراہ احمد جربہ نے کہا کہ وہ مذاکرات میں اپنے ’اصولوں پر سنجھوتہ نہیں کرے گی اور اسد حکومت اسے بیوقوف نہیں بنا سکتی۔‘

انھوں نے کہا ’ہمارے لیے مذاکرات کی میز انقلاب کا مطالبہ پورا کرنے کا راستہ ہے۔ اس میں سرِفہرست قصائی کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔‘

شامی حزبِ اختلاف نے اس سے قبل اس وقت تک سوئٹزرلینڈ جانے سے انکار کر دیا تھا جب کہ شامی صدر بشارالاسد کو آئندہ بننے والی کسی عبوری حکومت میں حصہ نہ لینے دیا جائے۔

تاہم شامی حکومت کا کہنا ہے اس پر کسی قسم کی پیشگی شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔

گذشتہ ہفتے شامی قومی مفاہمت کے وزیر علی حیدر نے کہا تھا کہ ان مذاکرات سے کسی کو بہت بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہونی چاہیے۔ ’حل کی جانب سفر شروع ہو گیا ہے، اور یہ ریاست کی فوجی فتح کے ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔‘

تاہم شام نے جمعے کو حزبِ اختلاف کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی پیش کش کی تھی، اور وزیرِ خارجہ ولید معلم نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف کے ساتھ ملاقات میں حلب میں بھی جنگ بندی کے معاہدے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس کے علاوہ شامی حکومت نے خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دمشق میں واقع یرموک فلسطینی مہاجر کیمپ تک کئی ماہ کے بعد امداد پہنچانے کی اجازت دی تھی۔

اسی بارے میں