جعلی آبِ زم زم پکڑا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption مکہ جانے والے زائرین آبِ زم زم کی بوتلیں اپنے ملکوں کو لے جاتے ہیں اور لوگوں کو بطور سوغات پیش کرتے ہیں

ایک سعودی شہری سمیت دس افراد کو جعلی آبِ زم زم کی دو لاکھ بوتلیں تقیسم کرنے اور بیچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے اخبار سعودی گزٹ کے مطابق وزارتِ تجارت و صنعت کے معائنہ کاروں نے مکہ کے الرصیفہ کے علاقے میں چھاپہ مار کر تین افراد کو بوتلوں کے اندر عام پانی بھرتے ہوئے پکڑ لیا۔ اس پانی کو آبِ زم زم بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔

عرب نیوز اخبار نے سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ معائنہ کاروں نے بوتلیں بھرنے کی مشینری کو تباہ کر دیا اور فیکٹری کو سیل کر دیا۔

سعودی عرب میں آبِ زم زم کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے۔

یہ پانی مکہ میں مسجد الحرام کے اندر واقع ایک کنویں سے نکالا جاتا ہے۔ حج و عمرہ کے دوران دنیا بھر کے مسلمان اس کی بوتلیں بھر بھر کر ساتھ لے جاتے ہیں اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بطور سوغات پیش کرتے ہیں۔

2010 میں برطانیہ میں جعلی آبِ زم زم بیچنے کے واقعات سامنے آئے تھے اور پولیس نے خبردار کیا تھا کہ اس جعلی آبِ زم زم میں سنکھیا بڑی مقدار میں موجود ہے جو صحت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں