تھائی لینڈ: مظاہرین کے ہجوم میں دو دھماکے، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ دھماکے کسی طرح کیے گئے ہیں

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں حکومت مخالف مظاہرین کے کیمپوں میں دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اس تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ دھماکے کسی طرح کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے جمعے کے روز مظاہرین کے ہجوم میں ایک گرنیڈ بھی پھینکا گیا تھا جس کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت مخالف مظاہرین نے پیر کے روز سے شہر کو بند کیا ہوا ہے اور اہم چوکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

حکام نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے 18 ہزار سیکورٹی اہل کار تعینات کیے ہیں۔

مظاہرین کی کوشش ہے کہ دو فروری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی موجودہ حکومت مستعفی ہو جائے۔

نومبر میں شروع ہونے والی اس حکومت مخالف مہم کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ینگ لک شیناوترا کی حکومت ہٹا کر ایک عوامی کونسل کو انتخابات تک کے لیے اقتدار سونپ دیا جائے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ینگ لک شیناوترا کی حکومت اصل میں 2006 میں فوج کی جانب سے معزول کیے گئے سابق وزیراعظم اور موجودہ وزیرِاعظم کے بھائی تھاکسین شیناوترا ہی چلا رہے ہیں۔ تھاکسین شیناوترا اس وقت خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نومبر میں شروع ہونے والی اس حکومت مخالف مہم کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ینگ لک شیناوترا کی حکومت ہٹا کر ایک عوامی کونسل کو انتخابات تک کے لیے اقتدار سونپ دیا جائے

مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تھاکسین شیناوترا اور ان کی حامی جماعتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں جعلی جمہوریت ہے۔ تھاکسین شیناوترا اور ان کی حامی جماعتیں گذشتہ چار انتخابات میں کامیاب رہی ہیں اور ملک کے دیہی علاقوں میں بہت مقبول ہیں۔

ملک کی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت اب دو فروری کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رہی ہے۔ گذشتہ سال شروع ہونے والی اس حکومت مخالف مہم میں فسادات کے دوران کم از کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بینکاک سے بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ شہر کے سات مرکزی چوکوں پر ریت کی بوریاں رکھ کر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور متعدد سٹیج بنائے گئے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ اس بندش کے دوران معمولِ زندگی برقرار رہے۔ اسی حکومت نے شہر میں چلنے والی ٹرینیوں میں اضافہ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں