شام مکمل خانہ جنگی تک کیسے پہنچا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں تین سال سے جاری تنازعے میں لاکھوں بے گھر اور دوسرے ممالک میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے

شام کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ایک بڑی سفارتی کوشش ہونے جا رہی ہے۔

شام میں تقریباً تین سال سے جاری اس تنازعے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

برطانوی شہر لیسٹر کے رہائشی اور ریڑھ کی ہڈی کے سرجن ڈاکٹر عمر جبار نے شام کی تقسیم کو قریب سے دیکھا ہے۔

اس تنازعے کے دوران وہ خیراتی ادارے ہینڈ ان ہینڈ فار سیریا کے لیے رضاکارانہ طور پر کئی بار شام میں امدادی سرگرمیوں کے لیے جا چکے ہیں۔

ان کے خیال میں شام میں تنازعے کی وجہ سے پہلے ہی ایک نسل تباہ ہو چکی ہے۔

مغرب شامی جہادیوں سے خائف

’صرف تصور کریں کہ آپ کا بچہ گذشتہ دو سے تین سال تک سکول نہیں گیا ہے، تصور کریں کہ آپ گھر سے باہر روز گار کے لیے نہیں جا سکتے ہیں۔‘

’یہ وقت ہے کہ آپ انسانوں کی طرح سوچنا شروع کریں کہ جلتی پر مزید تیل ڈالنا بند کریں جو معصوم لوگوں کو کھا رہی ہے اور انھیں اپنی ہی زمین پر واپس آنے سے روک رہی ہے۔‘

تو مارچ سنہ 2011 میں صدر بشارالاسد کے خلاف ایک پرامن احتجاج کس طرح سے خانہ جنگی میں بدل گیا اور اس نے بدتر شکل کیسے اختیار کی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں جہادی جنگجوؤں کے مضبوط ہونے سے مغرب کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ اور نیویارک میں بین الاوقوامی امدادی ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے مطابق صدر بشارالاسد کی فورسز اور باغی جنگجوؤں ایک تباہ کن تعطل میں پھنس گئے ہیں۔

’اندرونی اور بیرونی سطح پر، کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں کہ فتح حاصل کر لے اور اس کے ساتھ اس تنازعے میں نہ ہی دونوں اطراف سے کوئی اتنا کمزور ہوا کہ اسے شکست دی جا سکے۔‘

’اس کی وجہ سے یہ ایسی شکل اختیار کر گیا جس کی گذشتہ کئی ماہ میں لوگوں نے پیشنگوئی کی تھی اور اس کو اب تین سال گزر چکے ہیں اور اس میں انسانی جانوں کی صورت میں غیر معمولی قیمت ادا کرنا پڑی اور اس کے حل ہونے کے آثار نظر بھی نہیں آ رہے ہیں۔‘

کیا ابتدا میں مغربی طاقتوں کے لیے موثر اقدامات کر کے اس جنگ کو ختم کرنا ممکن تھا؟

کیا انھوں نے شام میں عسکری توازن پیدا کرنے کے لیے فیصلہ کن انداز میں باغی فورسز کو مسلح کرنے کی کوشش کی؟

سست ردعمل

بیروت میں ہیرنرچ بال فاؤنڈیشن کی اہلکار بینٹی شیلر نے حال ہی میں کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے صدر بشارالاسد کو ایسا شخص کہا جو ’کھیل لکھ‘ رہا ہے۔

بینٹی کے خیال میں بین الاقوامی طاقتوں نے صدر بشارالاسد کی مزاحمت کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔

’سال 2011 میں بین الاقوامی برادری خطے کے دوسرے ممالک میں ہونے والی سرگرمیوں پر توجہ دینے میں مصروف تھے اور کسی نے بھی شام میں انقلاب کی تحریک کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔‘

’بشارالاسد کے پاس مزاحمتی تحریک کو کچلنے کی حکمت عملی پر عملدرآمد کے لیے پورا وقت تھا، اور انھوں نے شروع سے ہی فوجی طاقت کے ذریعے انقلاب کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔‘

ابتدا میں باغیوں کی ہر امید پاش پاش ہو گئی اور جب بڑی طاقتوں میں سرد جنگ کے زمانے کی طرح کا تعطل آ گیا تو ناامیدی میں حزب اختلاف تقسیم ہو گئی۔ طاقت کا خلا پیدا ہوا تو اسلامی جہادی طاقتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور اس کی وجہ سے صدر بشارالاسد کو موقع ملا کہ وہ خود کو استحکام کی آخری امید کے طور پر پیش کریں۔

شام کی حزب اختلاف کی قومی کونسل کے چیف آف سٹاف منظر ایکبک شام کے تنازعے میں مغرب کی کمزوری پر خاصی تنقید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ: ’اگر بین الاقوامی برادری سال 2011 میں یا پھر 2013 میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے وقت کارروائی کرتی تو ہزاروں انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔‘

’آج بھی صدر بشارالاسد بے دریغ بمباری کر رہے ہیں، اب بھی تشدد کر کے لوگوں کو مار رہے ہیں، اب بھی جنگی جرائم کر رہے ہیں، اور اب بھی عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں۔‘

شام کا اسد کے ساتھ مستقبل

شام کے تنازعے میں اگر حزب اختلاف نے اپنے پتے اچھی طرح نہیں کھلیے ہیں تو ان کے مقابلے میں بشارالاسد نے بھی خراب کھیل کا مظاہرہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر بشارالاسد کو موقع ملا ہے کہ وہ خود کو استحکام کی آخری امید کے طور پر پیش کریں

صدر بشارالاسد کی پالیسی اقتدار کو بچائے رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات پر قائم رہی اور یہ پالیسی ان کے والد کے لیے کام کر سکتی تھی جنھوں نے 80 کی دہائی میں اپنے ہزاروں مخالفین کو ہلاک کر دیا اور اس وقت زیادہ تر ممالک نے اس پر توجہ نہیں دی۔

شام کی موجودہ حکومت کمزور ہے لیکن اچانک ختم ہونے کی پیشنگوئی کے برعکس حکومت اپنے آپ کو بچا گئی اور اس کی بڑی وجہ طاقتور اتحادیوں روس، ایران اور تنظیم حزب اللہ کی حمایت تھی۔

صدر بشارالاسد نے جہاں ایک طرف اپنی طاقت کو برقرار رکھنے لیے غیرملکی طاقتوں کا سہارا لیا وہیں اپنے دشمنوں کو تقسیم کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

شام میں اسلامی جہادی جنگجوؤں کے مضبوط ہونے سے صدر بشارالاسد کے اس موقف کو تقویت ملی کہ ان کا متبادل زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں امن قائم کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس میں صدر بشارالاسد اب تک کامیاب ہیں اور ان کے اقتدار بچانے کی حکمت علمی کو اب بھی بڑے امتحان سے گزرنا باقی ہے۔

اسی بارے میں