شام کے تنازعے پر امن کانفرنس میں تلخ کلامی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی حزب مخالف نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقتدار فوری طور پر عبوری انتظامیہ کے حوالے کر دیں

شام کے تنازعے پر سوئٹزرلینڈ میں امن کانفرنس شروع ہو گئی ہے اور اس میں شامی اہل کاروں اور حزب مخالف کے درمیان تلخ الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے’جنیوا ٹو‘ کانفرنس کے شرکا پر بامقصد اور سنجیدہ بات چیت کرنے پر زور دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار میں رہتے ہوئے ’کوئی راستہ نکلنا‘ مشکل ہے۔

شام مکمل خانہ جنگی تک کیسے پہنچا

یہ کانفرس جنیوا کے نزدیک مونٹرو کے مقام پر ہو رہی ہے اور اس میں جنیوا ون کانفرنس کے اعلامیے پر بات چیت کی جائے گی۔

اس اعلامیے میں شام میں ایک ایسی عبوری حکومت قائم کرنے کی بات کی گئی تھی جس کے پاس مکمل انتظامی طاقت ہو گی اور اس میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے ارکان باہمی مفاہمت سے شامل کیے جائیں گے۔

لیکن اس میں اہم مسئلہ صدر بشار الاسد کا مستقبل ہے۔ جمعے سے جنیوا میں شام کے مسئلے پر براہِ راست بات چیت شروع ہو گی اور بدھ کو شروع ہونے والی کانفرنس میں40 کے قریب وزرائے خارجہ اپنا اپنا موقف بیان کریں گے۔

مونٹرو میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کے مطابق کانفرنس کے موقعے پر بدتمیزی اور گالم گلوچ دیکھنے میں آئی۔

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا کہ کانفرنس میں شریک بعض ممالک کے ہاتھوں پر شامیوں کا خون ہے اور وہ ان کے ملک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ’شامی شہریوں کے علاوہ دنیا میں کسی کو اختیار نہیں کہ وہ صدر، آئین اور قانون کو اس کی قانونی حیثیت دے یا واپس لے۔‘

شامی وزیر خارجہ مقرر کردہ دس منٹ سے زیادہ دیر تک بولتے رہے اور ایک موقعے پر انھیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی روکنے کی کوشش کی۔

اس پر شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے سیکریٹری جنرل سے کہا کہ ’آپ نیویارک میں رہتے ہیں اور میں شام میں۔ میرے پاس حق ہے کہ میں یہاں شام کا موقف بیان کروں۔ تین سال تک برداشت کرنے کے بعد میرا یہ حق ہے۔‘

شام کی حزب مخالف کی تنظیم قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہتھیار اٹھانے کی خواہش حزب مخالف کی نہیں تھی، یہ خواہش شامی حکومت نے ظاہر کی تھی۔‘

انھوں نے اس موقعے پر شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ میں شائع ہونے والی ایک تصویر دکھائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کانفرنس کے موقع پر شامی حکومت کی مخالفت اور حق میں مظاہرے ہوئے

اس رپورٹ میں شامی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ منظم طریقۂ کار کے تحت حزب مخالف کے حراست میں لیے جانے والے کارکنوں پر تشدد اور انھیں ہلاک کرنے میں ملوث ہے۔

انھوں نے شامی حکومت سے کہا کہ وہ فوری طور پر جنیوا دستاویزات پر دستخط کرے اور اقتدار عبوری انتظامیہ کے سپرد کر دے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ ’بات چیت آسان نہیں ہو گی، یہ جلدی نہیں ہو گی لیکن اس میں شرکت کرنے والوں کے کندھوں پر ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔‘

کانفرنس کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتطامات کیے گئے ہیں۔ مونٹرو میں شامی حکومت کے حق اور مخالفت میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایران کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم ایران کی جانب سے شام میں عبوری حکومت کے قیام کے منصوبے کی حمایت نہ کرنے پر دعوت واپس لے لی۔

شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں