تھائی لینڈ: فائرنگ سے حکومت کے حامی کارکن زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک کم ازکم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک اور اس کے قریبی صوبوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں حکومت کے حامی گروہ ’ریڈ شرٹ‘ کے ایک رکن زخمی ہو گئے ہیں۔

تھائی لینڈ کے ایک مقامی ریڈیو براڈکاسٹر کوانچائی پرائیپانا یودن تھانیا میں واقع اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ انھیں زخمی کیا گیا۔ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے سنہ 2010 میں بینکاک میں مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پک اپ میں سوار دو نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے پرائیپانا پر فائرنگ کی جس سے ان کی ٹانگ اور کندھا زخمی ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق بینکاک کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کی وجہ سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ مظاہروں میں وزیرِاعظم ینگ لک شناواترا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں، تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کی وجہ سے حکومت کو زیادہ اختیارات مل گئے ہیں۔

منگل کو رات گئے بینکاک اور اس سے متصل تین صوبوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اس کے ذریعے حکومت کو اجتماعات کو قابو میں رکھنے اور میڈیا پر پابندی لگانے کے اختیارات ملے ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کو کیسے لاگو کیا جائے گا۔

وزیرِاعظم ینگ لک شناواترا کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ حکومت وزیراعظم کے بھائی تھاکسن شنواترا کے زیر اثر چل رہی ہے جو خود ملک سے باہر ہیں۔

حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ملکی سیاسی نظام میں تبدیلی آنے تک تمام ریاستی امور غیر منتخب ’پیپلز کونسل‘ کے حوالے کیے جائیں۔ وزیرِاعظم نے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کر کے دو فروری کو الیکشن کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے تاہم اپوزیشن نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

ملک میں دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے پرتشدد واقعات پیش آ رہے ہیں اور حکومت کی حامی اور مخالف جماعتیں ایک دوسرے کو ان کا ذمے دار قرار دے رہی ہیں۔

ایک سال قبل شروع ہونے والے ان حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک کم ازکم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کی حامی ریڈ شرٹ سے وابستہ افراد، جنھوں نے سنہ 2010 میں بینکاک میں مظاہرے کیے تھے، حالیہ احتجاج میں حصہ نہیں لے رہے۔تاہم ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ بھی اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تو تشدد میں تیزی آ سکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ابتدائی گھنٹوں میں بینکاک کی گلیوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی اور شہر کے مرکز میں مظاہرے جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ بار تھائی لینڈ میں لگائی جانے والی ایمرجنسی میں فوج تعینات کر دی گئی تھی، تاہم اس بار حکومت نے یہ ذمے داری پولیس کو سونپی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق حکومت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ مظاہرین سے جھڑپوں سے گریز کرے تاہم پولیس اب تک مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں، خود پر قابو رکھیں اور قانون کا احترام کریں۔

اسی بارے میں