لڑاکا طیارے کی دستاویزات: ایرانی انجینیئر پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایف 35 لڑاکا طیارہ تاریخ کا مہنگا ترین دفاعی پروگرام ہے جس پر تقریباً 400 ارب ڈالر لاگت آئی ہے

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ایرانی نژاد امریکی انجینیئر پر جدید جنگی فضائی طیارے کی چوری شدہ دستاویزات ایران بھجوانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی ریاست کنیٹی کٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ 59 سالہ مظفر خزعی پر چوری شدہ دستاویزات ایران بھجوانے پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مظفر کو نو جنوری کو ایف 35 جوائنٹ سٹرائیک لڑاکا طیارے کی دستاویزات ایران سمگل کرنے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا تھا۔

اگر مظفر کو عدالت مجرم قرار دیتی ہے تو ان کو 20 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

کنیٹی کٹ کے اٹارنی نے میڈیا کو بتایا کہ مظفر نے دفاعی کنٹریکٹ کمپنی سے لڑاکا طیارے کے دستاویزات چوری کیے تھے جہاں وہ نوکری کرتے تھے۔

مظفر دفاعی کنٹریکٹ کمپنی پریٹ اینڈ وٹنی میں کام کیا کرتے تھے جہاں وہ انجن کے مختلف حصوں کی مضبوطی جانچنے کے لیے ٹیسٹ کیا کرتے تھے۔

امریکی اٹارنی کا کہنا ہے کہ مظفر کو کمپنی نے اگست میں نوکری سے نکال دیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق مظفر کے خلاف تحقیقات کا آغاز نومبر میں کیا گیا جب کسٹم حکام اور ہوم لینڈ سکیورٹی حکام نے وہ سامان پکڑ لیا جو مظفر کی جانب سے ایران کے شہر ہمدان بھیجا گیا تھا۔

اس سامان پر لکھا تھا کہ گھریلو اشیا ہیں لیکن جب سامان کھولا گیا تو اس میں سے ایف 35 لڑاکا طیارے کی دستاویزات ملیں۔

استغاثہ کے مطابق مظفر کو نیو جرسی کے نیوآرک کے ہوائی اڈے سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ایران روانہ ہو رہے تھے۔

ایف 35 لڑاکا طیارہ تاریخ کا مہنگا ترین دفاعی پروگرام ہے جس پر تقریباً 400 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔

اسی بارے میں