اسرائیل: ’القاعدہ سیل‘ کے تین مشتبہ افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شین بیت کے مطابق تل ابیب میں واقع امریکہ سفارت خانہ بھی مبینہ القاعدہ سیل کے نشانے پر تھا

اسرائیل کی شین بیٹ سکیورٹی سروس نے ’القاعدہ سیل‘ کے تین مبینہ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اس کے مطابق مختلف مقامات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ترجمان نے کہا کہ یہ تینوں افراد امریکی سفارت خانے سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

شین بیت کا کہنا ہے کہ ان تینوں افراد کو غزہ کی پٹی میں القاعدہ کے ایک کارکن نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور ان کے دوسرے اہداف میں یروشلم کا ایک کانفرنس سنٹر بھی شامل تھا۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی پر حکمران حماس تحریک نے شین بیت کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

حماس کے ترجمان سمیع ابوظہری نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے شین بیت کے بیان کو ’احمقانہ کہانی‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ اسرائیل اس کے ذریعے غزہ پر حملے کا جواز پیدا کرنا چاہتا ہے۔

شین بیت کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک آدمی اسلحے کی تربیت کے لیے شام جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے کہا کہ کچھ حملے جعلی روسی دستاویزات استعمال کرکے کیے جانے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ منصوبے میں ایک اسرائیلی بس کو مبینہ طور پر غربِ اردن میں نشانہ بنانا اور اسرائیلی فوجیوں کو یروشلم کے بس سٹینڈ سے اغوا کرنا بھی شامل تھا۔

امریکی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اس دعوے کی صداقت کی جانچ کر رہا ہے کہ آیا امریکی سفارت خانے کو تو خطرہ لاحق نہیں تھا۔

امریکی ترجمان میری ہارف نے واشنگٹن میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس کے سچ نہ ہونے کا یقین نہ کرنے کا کوئی جواز ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہمیں صرف آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔‘

گذشتہ نومبر میں اسرائیل نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اس نے سنہ 2010 سے القاعدہ کے ایک مشتبہ حیاتیاتی اسلحے کے ماہر کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔

ایک فوجی عدالت نے سمیر عبدالطیف البراق کو سنہ 2010 میں گرفتاری کے بعد سے ’انتظامی حراست‘ میں رکھا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس کے تحت جرم عائد کیے بغیر کسی کو غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں