شامی جہادیوں کو برطانیہ واپسی پر گرفتاری کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption انٹیلی جنس افسران کا اندازہ ہے کہ برطانیہ سے شام جانے والے افراد کی تعداد چند سو تک ہو سکتی ہے

شام سے برطانیہ لوٹنے والے جنگجؤوں کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانوی پولیس کے ایک چیف انسپکٹر کے مطابق اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ شام میں جا کر لڑنے والے واپس آنے پر خود برطانیہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

مانچسٹر پولیس کے چیف کانسٹیبل سر پیٹر فاہی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ واپسی پرگرفتار کیے جانے والے افراد پر مقدمات قائم کیے جائیں گے اور انہیں بحالی کے ایک پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

رواں ماہ کے دوران شام اور برطانیہ کے درمیان سفر کرنے والے سولہ افراد کو دہشتگردی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ گذشتہ پورے سال کے دوران صرف چوبیس ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس سربراہان کی ایسوسی ایشن کے سربراہ سر پیٹر نے کہا کہ بحالی کے مذکورہ پروگرام کے تحت پولیس سکولوں اور نوجوانوں کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرے گی ’جس کا اصل مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کے ایسے افراد شام میں اپنے تجربات سے ذہنی طور پر متاثر نہ ہوئے ہوں اور یہ کہ وہ برطانیہ کے لیے کسی خطرے کا باعث نہ بنیں۔‘

پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ پروگرام کا مرکزی مقصد شام جانے والے برطانوی باشندوں کی اپنی فلاح کو یقینی بنانا ہے لیکن ہمیں ایسے افراد کے بارے میں شدید خدشات ہیں جنہیں شدت پسند بنا دیا گیا ہو اور وہ شام میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کرتے رہے ہوں۔

القاعدہ سے مبینہ روابط رکھنے والے دہشتگرد دنیا کے مختلف ممالک سے سنہ 2011 سے شام میں جاری جنگ میں حصہ لینے کے لیے جاتے رہے ہیں۔ انٹیلی جنس افسران کا اندازہ ہے کہ برطانیہ سے شام جانے والے افراد کی تعداد چند سو تک ہو سکتی ہے۔ کنگز کالج لندن کے ایک تحقیقی مرکز کے مطابق برطانوی جہادیوں کی بڑی تعداد کا تعلق ایسے پاکستانی نژاد نوجوانوں سے ہے جو یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم یافتہ ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کے انسدادِ دہشتگردی کے سربراہ نےگذشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ بات ’تقریباّ یقینی‘ ہے کہ برطانوی جنگجو اپنا غصہ مغرب پر نکالیں گے۔ ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کمانڈر رچرڈ والٹن کا کہنا تھا کہ انہیں لڑنے کی غرض سے شام جانے کی کوشش کرنے والے افراد کے بارے میں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان میں لندن اور ملک کے دوسرے علاقوں کے بیس سال سے کم عمر کے نوجوان شامل ہیں۔’ان میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ اور ہم کسی اکّا دکّا کی بات نہیں کر رہے بلکہ یہ سب کے سب نوجوان لوگ ہیں۔‘

اسی بارے میں