مصر: صدارتی انتخابات وقت سے پہلے کرانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر میں عبوری حکومت نے ملک میں صدرارتی انتخابات کو طے شدہ وقت سے پہلے کرانے کا اعلان کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں عام انتخابات اب صدارتی انتخابات سے پہلے نہیں ہو سکیں گے، جیسا کہ فوج کی نگرانی میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بنائے گئے ایک پروگرام میں طے ہوا تھا۔

اس فیصلے کے بعد ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملے گی کہ فوج کے سربراہ جنرل عبد فتح القاعدہ سی سی صدر کے عہدے کے ایک امیدوار ہوں گے۔

جولائی میں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو ہٹانے کی کارروائی میں جنرل سی سی کا بے حد اہم کردار تھا۔

محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے جنہیں مظاہروں کے بعد فوج نے معزول کر دیا گیا تھا۔

ملک کے عبوری صدر عدلي منصور نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ’قومی طاقتوں، مختلف تنظیموں اور مختلف رجحانات کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔‘

سنیچر کو فوج کے حامیوں نے سال 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والے بغاوت کی تیسری سالگرہ پر ریلیاں نکالیں تھیں۔

ہزاروں لوگ ملک کے دارالحکومت قاہرہ کے مشہور تحریر چوک پر پہنچ گئے۔ ان لوگوں نے ہاتھوں میں مصر کے پرچم اور جنرل سی سی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

سال 2011 میں ملک میں اس وقت کے صدر مبارک کے خلاف ہوئی بغاوت کا مرکز یہی تحریر چوک تھا۔

فوج قابل قبول نہیں

ملک میں کئی مقامات پر فوج کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے۔ کئی مقامات پر حکومت مخالف مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں 49 افراد ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر محمد مرسی کو ہٹانے کی کارروائی میں جنرل سی سی کا بے حد اہم کردار تھا

بی بی سی کے عرب امور کے ماہر سیبسچئین اشر کا کہنا ہے کہ مصر میں پھیلی عدم استحکام اور افراتفری کے درمیان ملک میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جنرل سی سی ہی وہ مضبوط آدمی ہیں جن کی ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

اگر جنرل سی سی صدر کے عہدے کے انتخابات کے کھڑے ہو کر جیت جاتے ہیں، جس کی غالب امکان ہے، تو وہ بے حد طاقتور ہو جائیں گے۔

صدر مرسی کو معزول کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والی اخوان المسلمین نے ملک میں سنیچر سے 18 روز کی تحریک کا آغاز کیا ہے۔

تین سال پہلے صدر مبارک کو 18 دن کے تحریک کے بعد ہی اقتدار کو چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔

مصر میں اخوان المسلمین اور اس کے حامی صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے فوج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ملک کی موجودہ حکومت نے اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے. حکومت کا دعوی ہے کہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری تشدد حملوں کے پیچھے اخوان المسلمون کا ہاتھ ہے۔ اخوان المسلمین اس بات سے انکار کرتی آئی ہے۔

اخوان المسلمین کے خلاف سرکاری کارروائی کے ساتھ ان لوگوں پر بھی تیزی سے کارروائی ہوئی ہے جنہیں فوج مخالف سمجھا جاتا ہے۔ کئی صحافی اور سیکولر سماجی کارکنوں کو بھی سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ ملک پر حسنی مبارک کے زمانے میں قابض فوجی تنظیم مصر کو ایک بار پھر سے اپنی گرفت میں لے رہے ہیں۔

چند روز پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے مصر بے مثال پیمانے پر تشدد کا سامنا کر رہا ہے۔

تنظیم نے مصر کی فوج پر الزام لگايا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے۔

اسی بارے میں