’لیتے رہیں گے نام اللہ کا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کوالالمپور کے نواح کے ایک گرجا گھر میں پادری لارنس اینڈریو دعا کرا رہے ہیں

ملائشیا کے عیسائی رہنما ملک کے وزیرِاعظم کے انتباہ کے باوجود اپنے خطبوں اور دعاؤں میں خدا کے لیے لفظ ’اللہ‘ استعمال کرنے پر مصر ہیں۔

ملائشیا کے ملے زبان بولنے والے عیسائی اگرچہ اپنی عبادت اور مذہبی گیتوں میں عربی لفظ اللہ صدیوں سے استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں، لیکن اب ایسا کرنا ایک بڑے مذہبی تنازعے کا باعث بنتا جا رہا ہے۔

کوالالمپور کے نواح میں واقع ایک چرچ کے پادری کے بقول ان کے ہاں گائے جانے والے تمام مذہبی گیتوں میں خدا کے لیے اللہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ’یہ لفظ ملے زبان کی انجیل میں بھی ایسے ہی ہے۔ ہم جب تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں تو تب بھی لفظ اللہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔‘

قدامت پسند مسلمانوں کے دباؤ کی وجہ سے وزیرِاعظم نجیب رزّاق نے جمعے کو کہا کہ ملائشیا کے عیسائیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان قوانین کا احترام کریں جوانھیں یہ لفظ استعمال کرنے سے روکتے ہیں۔ ملک کے اسلام پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ لفظ اللہ صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور غیرمسلمان یہ لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔

ملے بولنے والے مسلمان ملک کی دو کروڑ اسّی لاکھ کی کل آبادی کےساٹھ فیصد سے بھی زیادہ ہیں، تاہم ملائشیا میں چینی، انڈین اور دیگر اقوام کی بھی اچھی خاصی آبادی ہے۔ اسی طرح ملائشیا میں تقریباً 26 لاکھ عیسائی رہتے ہیں۔

عیسائی رہنماؤں نے قدامت پسند مسلمانوں کے دباؤ میں نہ آنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ’ ملائشیا میں عیسائیوں کے لیے ملے زبان کی انجیل استعمال کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ اُنھیں یہ کہنا کہ وہ اللہ کا نام استعمال نہیں کر سکتے، یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اپنی زبان میں عبادت نہیں کر سکتے۔‘ یہ بات کونسل آف چرچز آف ملائشیا کے جنرل سیکریٹری ھرمن شاستری نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

سنہ 2007 میں حکومت نے ملائشیا کے ایک کیتھولک ہفت روزہ اخبار کو حکم دیا تھا کہ وہ لفظ اللہ استعمال کرنا چھوڑ دے۔ حکومت کی دلیل یہ تھی کہ ایسا کرنے سے مسلمانوں کو تبدیلیِ مذہب کی ترغیب مل سکتی ہے، جو کہ ملائشیا میں اسلام کے پیروکاروں کے لیے غیر قانونی ہے۔ مذکورہ اخبار نے تب سے اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے، جس سے قدامت پسند مسلمان غصے میں ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ عیسائیوں کو اللہ کی جگہ ملے زبان کے کوئی دوسرے الفاظ اسعمال کرنے چاہییں۔

مسلمانوں کے حقوق کے ایک گروپ، پمبیلا، کے چیئرمین یسری محمد کا کہنا تھا: ’ضد کی کیا بات ہے؟ اُن کے پاس متبادل راستہ موجود ہے۔ ان کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی عبادات میں لفظ اللہ ہی استعمال کریں۔یہ ایک غیر ضروری اشتعال انگیز بات ہے ۔۔۔یہ بات ملائشیا کے لیے صحت مندانہ نہیں ہے۔‘

مسلمانوں نے عیسائیوں کو تجویز کیا ہے کہ وہ اللہ کی بجائے ملے زبان کے دیگر الفاظ، مثلاّ ’توحان‘ استعمال کریں۔

ملائشیا کو ایک معتدل اسلامی ملک سمجھا جاتا ہے اور دہایوں سے اس کی کوشش رہی ہے کہ مذہبی جھگڑوں کو پھیلنے نہ دیا جائے، تاہم اب غیرمسلمانوں کا الزام ہے کہ یہاں اسلامی قدامت پسندوں کی جانب سے عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ اتوار کے روز کی عبادت و دعا کے بعد ایک عیسائی کا کہنا تھا: ’ہمیں اس بات پر غصہ ہے۔ یہ غیر مناسب ہے۔ اب مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان حالات پرامن نہیں رہے ۔‘

ملائشیا کے کیتھولک چرچ کی دلیل یہ ہے کہ اس ملک کے عیسائی صدیوں سے اللہ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں اور یہ بات اسلام کے ظہور سے بھی پہلے کی ہے۔

واضح رہے کہ اس مسئلے کے حوالے سے سنہ 2010 میں تناؤ بڑھ گیا تھا جس دوران عبادت گاہوں پر حملے بھی ہوئے تھے، جس میں زیادہ ترگرجاگھروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ وزیرِاعظم نجیب رزّاق کی حکومت نے اس کے جواب میں درمیانی راہ اختیار کرتے ہوئے عیسائیوں کو محدود پیمانے پر اللہ کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن گزشتہ جمعے کو وزیرِاعظم اپنے اس فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔اب ان کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت کا پہلا فیصلہ اُن ملکی قوانین اور شاہی فرمان سے انحراف تھا جن کے تحت غیر مسلمان کو اللہ کا لفظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

اگرچہ ملائشیا میں تاریخی طور پر اس قسم کے قوانین کا اطلاق شاز و نادر ہی ہوا ہے، لیکن گزشتہ ماہ جب قدامت پسند مسلمانوں کا دباؤ بڑھا تو اسلام پسند سرکاری افسران نے مختلف عیسائی گروہوں سے انجیل کے نسخے ضبط کرنے کے لیے اسی قسم کے ایک قانون کا سہارا لیا تھا۔

اسی بارے میں