جنیوا: حمص سے خواتین اور بچوں کے محفوظ انخلا پر اتفاق

 حمص تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت نے بالغ مردوں کی فہرست طلب کی ہے جو حمص شہر چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ حکومت مخالف جنگجو نہیں ہیں

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی نے کہا ہے کہ حمص شہر میں پھنسے خواتین اور بچوں کو وہاں سے محفوظ نکلنے کی اجازت دینے کے لیے شامی حکومت رضامند ہو گئی ہے۔

فریقین میں یہ معاملہ جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے دوسرے دن طے پایا ہے۔

شام:حمص کےبیشتر حصے پر سرکاری فوج کا کنٹرول

شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل میكداد نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد خواتین اور بچوں کو حمص شہر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے وہ لوگ جانے کے لیے آزاد ہیں۔

اخضر براہیمی نے کہا کہ اپوزیشن گروپ حکومت کو ان لوگوں کی تعداد بتا دیں جو مسلح افراد کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فریقین میں کسی معاہدے کے امکان کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ بات چیت کی رفتار سست ہے لیکن انہیں امید ہے کہ پیر کو فریقین آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی بیان جاری کریں گے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ پیر کو اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کا ایک انسانی وفد حمص جا سکے گا۔

خبروں کے مطابق سینکڑوں لوگ حمص شہر میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں کئی شدید زخمی ہیں۔

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا کہ اگر معاملات ٹھیک رہے تو حمص پر سمجھوتہ امن مذاکرات کا پہلا ٹھوس نتیجہ ہوگا۔

شام کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ مقامی حکام کی مدد سے حمص شہر تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے کہ امداد کا سامان شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگے۔

شامی حکومت مسلح افراد کو شدت پسند قرار دیتی ہے۔

اخضر براہیمی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو تو حکومت فوری طور پر شہر چھوڑنے کی اجازت دے دے گی لیکن حکومت نے بالغ مردوں کی فہرست طلب کی ہے جو حمص شہر چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ حکومت مخالف جنگجو نہیں ہیں.

اخضر براہیمی کا کہنا تھا، ’آپ جانتے ہیں کہ حمص شہر کے مرکزی حصے ایک طویل عرصے سے محاصرے میں ہیں۔ اب مجھے امید ہے کہ ہم لوگ کم سے کم عام شہریوں کے لیے کسی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

قیدیوں کی رہائی؟

باغی سرکاری جیلوں میں بند ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اخضر براہیمی نے کہا کہ اتوار کو بات چیت کے ماحول سے انہیں کافی ہمت ملی ہے کیونکہ اس دوران دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے لیے احترام دکھایا اور ایک دوسرے کی بات سنی۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین اب بھی ایک دوسرے سے براہ راست بات نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کے ذریعے ہی بات کی جارہی ہے۔

سال 2011 میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریبا ایک کروڑ لوگوں کو اپنا گھر چھوڑ نا پڑا جس کی وجہ سے شام کے اندر اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں