ایران کو جاسوسی کی خدمات کی پیشکش، اسرائیلی کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدالت کے مطابق اسرائیل واپس آنے کے بعد اسحق ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ رابطے میں رہے

اسرائیل کی ایک عدالت نے ایک اسرائیلی شہری کو ایران کو اسرائیل کی جاسوسی کرنے کی خدمات کی پیشکش کے جرم میں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اسحق برجل نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے غداری اور اسرائیل کے دشمن کی مدد کرنے کی نیت سے ایک غیر ملکی ایجنٹ سے رابطہ کیا۔

لیکن عدالت نے کہا کہ ’ریاست کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے۔‘

اسحق کا تعلق صہونیت کی مخالف یہودی قدامت پسند فرقے ’ناطوری کارتا‘ سے ہے جو اسرائیلی ریاست کے وجود کے سخت خلا ف ہے۔

اس یہودی فرقے کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ صرف مسیح ہی ایک یہودی ریاست قائم کر سکتے ہیں۔

منگل کو عدالت کے حکم میں بتایا گیا کہ کہ اسحق سنہ 2011 میں جرمنی کے دارالحکومت برلن گئے جہاں انھوں نے ایران کے سفارت خانے سے رابطہ کیا اور ان کو اسرائیل کی جاسوسی کے لیے اپنی خدمات پیشکش کیں۔

عدالت کے حکم نامہ کے مطابق اسرائیل واپس آنے کے بعد اسحق ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ رابطے میں رہے۔

اسرائیل کی اندرونی سکیورٹی کی ایجنسی شین بیٹ نے کہا کہ اسحق نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے یہ اقدامات اسرائیل کو نقصان پہنچانے اور مالی فائدے کے لیے‘ اٹھائے۔

یاد رہے کہ ایران اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا ا ور اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

یہودی فرقے ناطوری کارتا کے پیروکاروں نے ماضی میں ایران کا سفر کیا ہے۔ سنہ 2006 میں اسرائیل میں اس وقت بڑا ہنگامہ برپا ہوا جب ایک وفد نے ایک کانفرنس کے دوران اس وقت کے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو گلے لگایا جب انھوں نے ہولوکاسٹ کی سچائی پر سوال اٹھایا۔

اسی بارے میں