سعودی عرب میں طلاق کا بڑھتا رجحان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں قانوناً ایک خاتون اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتی

طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے سعودی خواتین میں اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے شادی سے قبل اعلیٰ تعلیم کے حصول سمیت دیگر آپشنز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں طلاق کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہاں 2012 میں 31 ہزار سے زیادہ طلاقیں ہوئیں جس کی شرح 21 فیصد کے لگ بھگ بنتی ہے۔

سعودی وزارتِ انصاف کے اعداد وشمار کے مطابق اس برس شادی کے بندھن میں بندھنے والے ایک لاکھ 48 ہزار جوڑوں میں سے 31 ہزار سے زیادہ کی شادی طلاق پر منتج ہوئی جبکہ 3449 جوڑوں نے عدالت کے ذریعے شادی ختم کی۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق طلاق کے واقعات میں سے اکثر معمولی اور کچھ مضحکہ خیز وجوہات کی بنا پر پیش آئے۔ مثال کے طور پر 2012 میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس لیے طلاق دینے کی کوشش کی کیونکہ اس نے شوہر کے کہنے پر اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند نہیں کیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک نامعلوم سعودی شہری نے شادی کے دس ماہ بعد اپنی اہلیہ کو سمارٹ فون کی ایپ کی مدد سے طلاق کا پیغام بھیجا اور پھر کہا کہ یہ پیغام حادثاتی طور پر چلا گیا تھا۔ تاہم اس کی اہلیہ نے یہ پیغام مقامی جج کی عدالت میں پیش کیا جس نے طلاق کو صحیح قرار دے دیا۔

جدہ میں صحافی راشد حسین کے مطابق طلاق کے اس روز افزوں رجحان کی وجہ سے سعودی حکام شادی سے قبل نوجوان جوڑوں کے لیے ’کاؤنسلنگ‘ کو لازمی قرار دینے پر غور کر رہے ہیں۔ اس تجویز کے مطابق نکاح نامے کی تصدیق کے لیے شادی کی تربیت کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنا لازم ہوگا۔

جدہ سے تعلق رکھنے والی ’میرج کاؤنسلر‘ ڈاکٹر عالیہ ہانی ہاشم کا کہنا ہے کہ ’شادی سے قبل میرج کاؤنسلر سے تربیت کی تصدیق کروانا لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ اس سے جوڑے کو ایک دوسرے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا بہتر طریقے سے احساس ہوگا۔‘

معاشرتی معاملات کی سعودی مبصر ثمر فتانی کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 40 فیصد طلاقیں اس لیے ہوتی ہیں کہ شوہر اپنی بیویوں پر نوکری چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں جبکہ 60 فیصد کا تعلق بیوی کی تنخواہ پر شوہر کے کنٹرول کے معاملے سے ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں قانوناً ایک خاتون اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔ وہ اسے کام کرنے سے روک سکتا ہے اور اس امر کا تعین بھی کر سکتا ہے کہ وہ کہاں کام کرے اور کہاں نہیں۔

طلاق کے رجحان میں اضافے کی وجہ سعودی شوہروں کی جانب سے اپنی بیویوں سے روا رکھے جانے والے سلوک کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

ثمر فتانی کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ہر چھ میں سے ایک خاتون کو روزانہ بدکلامی اور ذہنی اور جسمانی طور پر استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ استحصال کرنے والوں میں سے 90 فیصد ان کے شوہر یا والد ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر عالیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ طلاق لینے والے جوڑوں میں سے زیادہ تر جوان جوڑے ہیں جو کہ شادی کے ایک یا دو سال بعد ہی علیحدگی چاہتے ہیں۔

طلاق کے ان واقعات کی وجہ سے نوجوان سعودی خواتین میں شادی سے قبل اپنی تعلیم مکمل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی صورتحال میں انھیں اپنے بل بوتے پر زندگی گزرانے میں مشکلات درپیش نہ ہوں۔

اسی بارے میں