آسٹریلوی وزیرِ اعظم کی سرکاری نشریاتی ادارے پر تنقید

آسٹریلوی وزیر اعظم تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آسٹریلوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ محض اپنے ہی ملک پر تنقید نہیں کر سکتے

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے قومی نشریاتی ادارے اے بی سی پر ’آسٹریلیا کے سوا ہر کسی کی طرف داری‘ کرنے پر کی تنقید کی ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ عوام کے پیسوں سے چلنے والے ادارے کو ’اپنے ملک کے لیے بنیادی محبت دکھانی چاہیے۔‘

آسٹریلیا پہنچنے کے لیے زندگیاں داؤ پر

تارکین وطن کی کشتی غرقاب: تصاویر

پناہ کی تلاش میں انڈونیشیا سے آنے والے تارکینِ وطن کے استحصال اور آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انڈونیشیا کی جاسوسی کی اطلاعات پر اے بی سی خبریں دینے میں پیش پیش رہا ہے۔

وزیراعظم کے بیان پر تاحال اے بی سی نے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

تاہم حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت کو میڈیا کی تفتیش کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے یہ بیان ریڈیو سٹیشن ٹو جی بی کے ساتھ ایک انٹرویو میں دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ سابق امریکی سی آئی اے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے ظاہر کیے گئے دستاویزات میں جاسوسی کے الزمات پر اے بی سی کی رپورٹننگ پر پریشان اور فکر مند ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق آسٹریلیا کے جاسوسی کے اداروں نے انڈونیشیا کے صدر اور اعلی وزرا کے ٹیلی فونز کی نگرانی کی۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات متاثر ہوئے اور انڈونیشیا نے آسٹریلیا کے ساتھ فوجی تعاون ختم کر دیا ہے۔

اے بی سی نے ایک ویڈیو فوٹیج دکھائی ہے جس میں پناہ کی تلاش میں آنے والے انڈونیشیا کے باشندوں کے جلے ہوئے ہاتھ دکھائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں زبردستی کشتی کے گرم انجن کو پکڑنے کو کہا گیا۔

ادھر انڈونیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ پناہ کے متلاشی بعض افراد کے ہاتھوں پر جلنے کے نشانات ملے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں کہ ان کہ ساتھ ایسا کس نے کیا۔

ان دعوؤں کی آسٹریلین فوج اور حکومت دونوں نے سختی سے تردید کی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا ’اگر کوئی مستند شواہد ہیں تو دوسری نیوز تنظیموں کی طرح اے بی سی کو بھی انہیں رپورٹ کرنا چاہیے۔‘

’لیکن آپ محض اپنے ہی ملک پر تنقید نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ اے بی سی کو آسٹریلین نیوی کو شک کا فائدہ دینا چاہیے۔

آسٹریلیا کی قائم مقام قائد حزبِ اختلاف تانیا پلےبیریسک کا کہنا ہے کہ ’اے بی سی نے ہر حکومت کی جانچ پڑتال کی ہے اور ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا ’وزیرِ اعظم کو میڈیا کوریج کے بارے میں شکایت کرنا بند کرنا چاہیے اور ایک وزیرِ اعظم کی طرح پیش آئیں۔‘

آسٹریلیا کی حکومت نے ان اطلاعات پر ردعمل دینے سے بھی انکار کیا ہے کہ آسٹریلین نیوی تارکینِ وطن کی کشتیاں واپس انڈونیشیا لے کر جا رہی ہے۔

تاہم آسٹریلیا نے انڈونیشیا سے حال ہی میں کئی بار غلطی سے سمندری حدود کی خلاف ورزی پر معذرت کی۔

اے بی سی کے چارٹر کے مطابق یہ ایک ’آزاد قومی نشریاتی ادارہ‘ ہے۔

دسمبر میں اے بی سی کے ڈائریکٹر مارک سکاٹ نے جاسوسی کے الزمات کی کوریج کا دفاع کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا ’ ہم ایک آزاد میڈیا کا ادارہ ہیں اور یقیناً بعض دفعہ ہم ایسی کہانیاں نشر کرتے ہیں جس سے سیاستدان خوش نہیں ہوتے۔ لیکن ہمیں یہ کرادر ادا کرنا ہے۔ ‘

اسی بارے میں