غزہ، اریحا میں فلسطینیوں کی اجتماعی شادی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر محمود عباس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے فلسطین اتھارٹی نے اس تقریب میں ایک اعشاریہ پانچ ملین ڈالر خرچ کیے جس میں ہر جوڑے کے لیے چار ڈالرز کا تحفہ شامل تھا

تین سو فلسطینی جوڑوں نے مغربی کنارے اور غزہ میں ایک تقریب میں ہونے والی اجتماعی شادی میں شرکت کی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر اریحا میں 218 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب میں حصہ لیا۔

صدر محمود عباس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے فلسطین اتھارٹی نے اس تقریب میں ایک اعشاریہ پانچ ملین ڈالر خرچ کیے جس میں ہر جوڑے کے لیے چار ڈالرز کا تحفہ شامل تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس پر تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس نے غزہ سے آنے والے افراد کو اریحا میں ہونے والی تقریب میں شرکت سے روکا۔

محمود عباس نے فلسطینی جوڑوں سے کہا یہ بدقسمتی ہے کہ حماس فلسطینی افراد کو تقسیم کرنے پر مصر ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’حماس نے آج ہمارے لڑکوں اور لڑکیوں کو ہمارے ساتھ اپنی تقریب منانے پر پابندی عائد کی۔ ہم ایسا کر کے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے تاہم حماس ایسا نہیں چاہتی‘۔

فلسطینی افراد محمود عباس کی جماعت الفتح اور شدت پسند تنظیم حماس کی اختلافات کی وجہ سے سیاسی طور پر منقسم ہیں۔

فلسطین میں حماس کے زیرِ اثر غزہ کی پٹی میں ہونے والی ایک دوسری تقریب میں 80 جوڑوں کی اجتماعی شادی ہوئی۔

فلسطین کے ایک اہل کار جمال لافی نے کہا کہ اجتماعی شادی کا مقصد نوجوان جوڑوں کو ملک کی مشکل اقتصادی صورتِ حال میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی شادی کے تمام اخراجات فلسطین اتھارٹی نے ادا کیے۔

مغربی کنارے کے شہر اریحا میں ہونے والے اجتماعی شادی کی تقریب میں دلہنوں نے نقش و نگار پر مشتمل ملبوسات جب کہ دولہوں نے کالے سوٹ، سفید شرٹس اور سرخ ٹائیاں پہنیں۔

فلسطینی جوڑوں نے انٹر کانٹینٹل ہوٹل کی ایک کار پارک میں بنائی گئی ایک سٹیج پر کرسیوں میں بیٹھے۔

اسی بارے میں