’شامی حکومت نے ہزاروں گھر مسمار کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی املاک کی تباہی اور اجتماعی سزائیں دینا جنگی جرائم ہیں

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ شامی حکومت جان بوجھ کر اور غیر قانونی طور پر ہزاروں گھروں کو مسمار کر رہی ہے۔

سیٹلائٹ پر جاری ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سنہ 2012 اور 2013 میں شامی حزبِ مخالف کے اہم گڑھ دمشق اور حما میں بڑے پیمانے پر دھماکہ خیز مواد اور بلڈوزروں کی مدد سے گھروں کو زمیں بوس کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی املاک کی تباہی اور اجتماعی سزائیں دینا جنگی جرائم ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سیٹلائٹ کی مدد سے دمشق اور حما کے سات ضلعوں کی تباہی سے پہلے اور بعد کی تصاویر میں متعدد عمارات کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان کے پاس کم سے کم 145 ہیکٹر پر مشتمل علاقے کی دستاویزات ہیں اور یہ علاقہ فٹبال کے 200 میدانوں کے برابر ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے گھروں کو مسمار کرنے کی وجہ سے ہزاروں خاندان اپنے گھر کھو چکے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے محقق اولے سولوینگ کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی مسماری شامی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے جرائم کی طویل فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شامی حکومت سے گھروں کو مسمار کرنے کے عمل کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق شامی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے استدعا کی ہے کہ وہ شامی حکومت کے اس عمل کو انصاف کی بین الاقوامی عدالت میں لے جائے۔

خیال رہے کہ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب جنیوا میں شام کے بارے میں امن کانفرنس جاری ہے۔

اس سے پہلے شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے بدھ کو تسلیم کیا تھا کہ شام کے بارے میں امن کانفرنس سے انھیں کسی پیش رفت کوئی امید نہیں ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا دونوں جانب سے برف پگھل رہی ہے۔

اسی بارے میں