برتن دھونے اور لنگوٹیاں بدلنے والےمرد کا کیا بنا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ بیکھم کو میٹروسیکشوئل مرد کی علامت سمجھا جاتا ہے

’نیا مرد‘ کی اصطلاح ایک ایسے مرد کے بارے میں استعمال کی جاتی تھی جس نے دل سے نجی زندگی میں برابری تسلیم کر لی تھی مگر تیس سال گزرنے کے بعد اس اصطلاح کا کیا بنا۔

’نیو مین‘ یا نیا مرد کی اصطلاح سنہ 1980 میں منظرِ عام پر آئی جیسے کوئی نئی عجیب جنس ہو جو برتن دھونے اور لنگوٹیاں بدلنے میں عار محسوس نہ کرے۔

آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ’نیو مین‘ ایک ایسے مرد کو کہا جاتا ہے ’جو جنسی تقسیم کے رویوں اور روایتی مرد کے کردار خاص طور پر نجی ذمہ داریوں کے حوالے سے اور بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے رویوں کو مسترد کرتا ہے اور خیال رکھنے والا، حساس اور غیر جارحانہ رویہ رکھنے والا مرد ہے۔‘

اس کا پہلا حوالہ سنہ 1982 میں ڈسٹن ہوفمین کی مزاحیہ فلم ’ٹوٹسی‘ میں ان کے کردار پر واشنگٹن پوسٹ کے آرٹیکل میں دیا گیا تھا۔

اخبار میں لکھی گئی بات سے تاثر ملتا ہے کہ یہ پہلے سے استعمال میں تھی اسی وجہ سے شاید اخبار نے اس کی زیادہ وضاحت نہیں کی۔

مارٹن کیلنر نے جو بی بی سی کے ریڈیو فائیو لائیو کے ساتھ کام کرتے ہیں کہا کہ سنہ 1980 میں جب ان کے بچے پیدا ہوئے تو ان کے مطابق ’میں نے آپ کو ایک نیو مین کے طور پر دیکھا جو میرے والد سے بالکل مختلف تھا۔ میں ایک ایسا والد تھا جو اپنے بچوں کے لیے موجود تھا۔‘

مارٹن کا کہنا ہے کہ ’میں نے پہلے دن سے بچوں کے پوتڑے بدلے، سبزیاں بنائیں، بچوں کے لیے چائے بنائی اور رات کے وقت ان کے لیے دودھ کی بوتل بھی اٹھ کر بنائی۔‘

کیلنر کا کہنا ہے کہ یہ شاید اب عام لگے مگر اس زمانے میں اسے ماضی کی روش سے ہٹ کر سمجھا جاتا تھا۔

لندن کی ساؤتھ بینک یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس جس کا عنوان ہے ’ایک مرد ہونا‘ اس بات کا جائزہ لے گی کہ مردانگی کہاں پہنچی ہے جس میں شرکا اس بات پر بحث کریں گے کہ ایک مرد ہونا کیسا ہے۔

مرد کیا ہے ’ایلفا میل‘ لڑکا، بالا، میٹروسیکشوئل (ایسا مرد جو میک اپ، تراش خراش کروانے میں عار نہ محسوس کرے)، اوبر سیکشوئل ہے یا اب کسی نئی اصطلاح کو ایجاد کیا جائے گا جیسا کہ ’نئے دور کا حساس مرد‘۔

آج کا مرد ٹائمز اخبار کے کالم نگار جائلز کورن کے مطابق ’بچوں کو اپنی چھاتی سے لگانے والا، سبزیاں کھانے والا اور شراب نوشی ترک کرنے والا ہے۔ اور یہ اس وقت تک رائج رہا جب خواتین نے کہا کہ وہ ایسے مردوں کے ساتھ سونا نہیں چاہتی ہیں۔‘

برطانیہ میں کم از کم ’نیو مین‘ کی اصطلاح کو ایک میڈیا کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جبکہ کئی باپ اپنے بچوں کے پوتڑے بدل رہے تھے اور سبزیاں بنا رہے تھے۔‘

سنہ 2000 کے بعد کا دور آیا اور ڈیوڈ بیکھم جیسے مرد کو دنیا نے دیکھا کہ وہ بچوں کو اٹھانے کے لیے گلے میں ’سلنگ‘ ڈالنے میں برا نہیں مانتا، شراب نہیں پیتا تھا اور اپنے کسرتی جسم کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

یہ دور ’میٹرو سیکشوئل‘ کے آغاز کا دور تھا جسے مارک سمپسن نے اپنے روزنامہ انڈیپنڈنٹ کے لیے لکھے گئے ایک کالم میں پہلی بار استعمال کیا تھا۔

سنہ2007 میں آبزرور اخبار کی کالم نگار باربرا ایلن نے لکھا کہ میٹرو سیکشوئل مرد ’ایسا مرد ہے جو خواتین کی طرح ہے اور اسے پسند کیا جاتا ہے۔‘

سنہ 2005 میں ماریوں سالزمن نے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی ’اوبر سیکشوئل‘ اپنی کتاب ’دی فیوچر آف مین‘ یعنی مردوں کا مستقبل جس میں انھوں نے اس کی تعریف یوں کی ’اوبر سیکشوئل پراعتماد مرد ہوتے ہیں، مردانہ وجاہت رکھنے والے اور پرکشش اور زندگی کے تمام شعبوں میں معیار پر یقین رکھتے ہیں۔‘

اب تک یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ مرد مردوں کے بارے میں بات چیت نہیں کرتے مگر ساؤتھ بینک میں ہونے والی کانفرنس میں بہت زیادہ غور و فکر ہو گا اور اپنے اندر جانکھنے کا موقع ملے گا۔