شرین دیوانی مقدمہ ہار گئے، ملک بدری کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شرین دیوانی اور عینی کی شادی کی بہت بڑی تقریب قتل سے دو ہفتے قبل ممبئی میں ہوئی تھی

اپنی بیوی کو جنوبی افریقہ میں قتل کروانے کے الزام میں برطانوی شہری شرین دیوانی کو جنوبی افریقہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

یہ حکم ایک برطانوی ہائی کورٹ نے سنہ 2010 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے قتل کی سماعت کے دوران سنایا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والے بھارتی نژاد برطانوی شہری شرین دیوانی کو کیپ ٹاؤن کے نواح میں ہنی مون کے دوران اپنی بیوی عینی کو قتل کرانے کے شبے میں مقدمے کا سامنا ہے۔ عینیسویڈن کی شہریت تھیں۔

ملزم شرین دیوانی کے وکلا کا موقف ہے کہ ان کے موکل ابھی تک اپنی بیوی کی موت کے صدمے میں ہیں جس کی وجہ سے وہ جنوبی افریقہ جانے کے قابل نہیں۔

لیکن ججوں نے اس موقف کو تسلیم نہ کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ کی حکومت یہ ذمہ داری لیتی ہے کہ مقدمے کا سامنا نہ کر سکنے کی صورت میں ملزم کو واپس برطانیہ بھیج دیا جائے گا تو اُسے جنوبی افریقہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

شرین دیوانی آج کل ہسپتال میں ہیں اور گذشتہ برسوں سے ان کا موقف یہی رہا ہے کہ جب تک وہ اپنے دماغی مسائل سے روبصحت نہیں ہو جاتے، جنوبی افریقہ نہیں جا سکتے۔

نوبیاہتا جوڑے کو کیپ ٹاؤن کے نواح سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایک ٹیکسی میں جا رہے تھے۔ اغوا کاروں نے شرین دیوانی کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ دیا جبکہ ان کی بیوی کو قتل کر دیا گیا۔ عینی کی لاش اگلے دن اسی کار سے ملی تھی اور ان کے سر اور چھاتی پر زخم تھے۔

بعد ازاں جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے زولیلے نگینی نامی مقامی شخص کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی تھی۔جنوبی افریقہ میں اس مقدمے کے استغاثہ کا الزام ہے کہ زولیلے نگینی کوخود شرین دیوانی نے اپنی بیوی کوقتل کرنے کے لیے خریدا تھا۔

شرین دیوانی نے ہمیشہ اس الزام سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں