شام پر مذاکرات بڑی پیش رفت کے بغیر ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعرات کو فریقین نے شام میں شورش کے دوران مرنے والوں کی یاد میں رسمی خاموشی اختیار کی

شام کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں اگرچہ حالیہ مذاکرات میں پیش رفت انتہائی سست ہے تاہم ان مذاکرات میں ایسی باتیں سامنے آئی ہیں جن کو بنیاد بنا کر دونوں فریقین معاملے کے حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

اخضر براہیمی کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ہفتے دوسرے مذاکراتی دور میں مزید پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔ ’مجھے کچھ اتفاق نظر آیا ہے جس کا شاید دونوں فریقین کو بھی احساس نہیں ہے۔‘

حمص سے خواتین اور بچوں کے محفوظ انخلا پر اتفاق

اس سے پہلے شام کے معاملے پر سوئٹزر لینڈ میں جاری امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ہی ختم ہوگئے تھے۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں ایک ہفتے سے جاری مذاکرات میں فریقین مخمصے کا شکار ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔ آئندہ مذاکرات کے لیے 10 فروری کی تاریخ چنی گئی ہے۔

اخضر براہیمی نے بتایا کہ شامی حزبِ اختلاف نے آئندہ مذاکرات میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے مگر حکومتی وفد کو دمشق سے ابھی اس کی اجازت لینا ہے۔

شام میں سنہ 2011 سے جاری شورش میں کم سے کم ایک لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

جمعرات کو فریقین نے مرنے والوں کی یاد میں خاموشی اختیار کی۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جب دونوں جانب سے نمائندہ ایک ساتھ کھڑے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اخضر براہیمی نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ مذاکرات کا آئندہ دور میں ہم زیادہ واضح بات جیت کریں گے۔

جمعرات کو اخضر براہیمی نے کہا :’میں امید کرتا ہوں کہ مذاکرات کے آئندہ دور میں ہم زیادہ واضح بات جیت کریں گے۔‘

انہوں نے اس بات پر سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ اقوامِ متحدہ کا امدادی قافلے اب بھی باغیوں کے زیرِ قبضہ شہر حمص میں داخلے کے منتظر ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وہاں شہری فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح مذاکرات کے عمل کا جاری رکھنا ہے کیونکہ انہیں امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سخت گیر موقف رکھنے والوں کو نرم کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں بنیادی مسائل جن میں تشدد کا خاتمہ، سیاسی اختیارات کی تقسیم اور محصور افراد تک امداد کی رسائی جیسے مسائل پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔

حتی کہ اس بات پر بھی تنازع ہے کہ ان میں سے کس مسئلہ پر پہلے بات کی جائے۔

اس اجلاس کے شریک میزبان روس اور امریکہ اپنے اپنے اتحادیوں کو مذاکرات میں معاونت کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جمعرات کو کہا کہ ’اقوامِ متحدہ مذاکرات میں پیش رفت کا ہر راستہ آزمائے گی۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوگی تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا آغاز بذاتِ خود ’ایک پہلی کامیابی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ انسانی امداد کو راستہ دیا جائے کیونکہ شام میں لوگوں کی مشکلات بیان سے باہر ہیں اور تمام اقدامات نتائج کے حصول کی غرض سے لیے جائیں۔‘

اس سے پہلے مذاکرات میں بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی تھی جب حمص شہر میں پھنسے خواتین اور بچوں کو وہاں سے محفوظ نکلنے کی اجازت دینے کے لیے شامی حکومت رضامند ہو گئی ہے۔ فریقین میں یہ معاملہ جنیوا میں جاری امن مذاکرات کے دوسرے دن طے پایا تھا۔

اسی بارے میں