یوکرائن: تشدد زدہ احتجاجی کارکن سے پوچھ کچھ پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمی کارکن نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ ان کو کس نے اغوا کیا لیکن ان کے اغواکار روسی لہجے میں بات کر رہے تھے

یوکرائن میں طبی کارکنوں نے پولیس کو ایک زخمی احتجاجی کارکن سے پوچھ کچھ سے روک دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے کارکن کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

مترو بلاتوف 8 دن تک لاپتہ رہے جو جمعرات کو دارالحکومت کیو کے مضافات میں زخمی حالت میں ملے اوراب وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اغواکاروں نے ان کو صلیب پر لٹکایا گیا اور انھیں مرنے کے لیے پھینک دیا۔ انھوں نے کہا کہ’اغواروں کاروں نے مجھے صلیب پر لٹکایا، اس لیے اب میرے ہاتھوں میں سراخ ہیں۔‘

انھوں نے اغواکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’انھوں نے میرے کان کاٹے، میرے چہرے کو کاٹا۔ میرے ساری بدن کی حالت بری ہے۔ آپ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ میں زندہ ہوں جس کے لیے میں خدا کا شکر گزار ہوں۔‘

مترو بلارف کا نام حکومت کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس انھیں گرفتار کرنے کے لیے ہسپتال میں ائی۔

پولیس کا موقف ہے کہ انھوں نے مترو بلاروف کے اغوا کے واقعے کی تفتیش شروع کی ہے اور وہ ان سے اس بارے میں سوال کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے شعبہ ظاہر کیا ہے کہ شاید اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے اغوا ہونے کا یہ ڈراما رچایا گیا ہو۔

اطلاعات کے مطابق زخمی کارکن نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ ان کو کس نے اغوا کیا تھا لیکن ان کے اغواکار روسی لہجے میں بات کر رہے تھے۔

خِیال رہے کہ حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔

جنوری کے وسط میں میں حکومت کی طرف سے احتجاج پر پابندی کے قانون کے بعد حکومت اور حزبِ مخالف کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تھیں۔

اس کے بعد صدر وکٹر یانوکووچ نے ملک کے وزیرِ اعظم اور ان کے کابینہ کے استعفے منظور کیے تھے جبکہ سینیئر عہدوں کی حزبِ اختلاف کو پیشکش کی گئی تھی جو انھوں نے مسترد کر دی تھی۔

جبکہ ملک کی پارلیمان نے مظاہروں پر پابندی کے قانون کو ختم کرتے ہوئے، سرکاری عمارتوں کو خالی کرنے کی شرط پر زیرِ حراست مظاہرین کے لیے معافی کا قانون بھی پاس کیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مترو بلاتوف پر تشدد کو’ وحشیانہ عمل‘ قرار دیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کی مطالبہ کیا ہے۔

کیو میں بی بی سی کی نامہ نگار ڈنکن کرافرڈ کا کہنا ہے کہ مترو بلاتوف کا اغوا ہونا کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے سلسلے کا حالیہ واقع ہے۔ ان لاپتہ ہونے والے کارکنوں میں سے کم از کم ایک کارکن کو بعد میں مردہ پایا گیا تھا۔

اسی بارے میں