مصر:مظاہرین کی ہلاکتوں کا مقدمہ، مرسی کی پیشی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption معذول صدر محمد مرسی کے خلاف چار مختلف مقدموں کی سماعت جاری ہے۔ اور ان پر مجرمانہ جرائم کا الزام ہے

مصر کے معزول صدر محمد مرسی ایک مقدمے کی سماعت کے لیے ہیلی کاپٹر سے اسکندریہ کے قید خانے سے دارالحکومت قاہرہ لائے گئے ہیں۔

محمد مرسی اور ان کی پارٹی اخوان المسلمین کے 14 ارکان پر ایوان صدر کے باہر سنہ 2012 میں اپنے حامیوں کو تشدد پر آمادہ کرنے اور اس کے نتیجے میں مظاہرین کے قتل کا الزام ہے۔

ان دنوں معزول صدر کے خلاف چار مختلف مقدموں کی سماعت جاری ہے۔

چار دن قبل ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران معزول صدر محمد مرسی حکم عدولی پر آمادہ تھے اور کمرۂ عدالت میں چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ وہ ابھی بھی ملک کے اصلی صدر ہیں۔

واضح رہے کہ ان کے خلاف زبردست عوامی مظاہروں کے بعد گذشتہ جولائی میں فوج نے انھیں معزول کر دیا تھا۔

دریں اثنا جمعے کو پولیس نے محمد مرسی کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والوں پر قاہرہ اور اسکندریہ میں اشک آور گولے داغے ۔

صدر مرسی پر جاری مقدمات میں مندرجہ ذیل الزامات لگائے گئے ہیں:

  • ان پر ایوان صدر کے باہر سنہ 2012 میں اپنے حامیوں کو تشدد پر آمادہ کرنے اور اس کے نتیجے میں ان مظاہرین کے قتل کا الزام ہے جو قاہرہ میں صدر کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
  • بیرونی تنظیموں سے دہشت گردانہ عمل کے لیے ساز باز کرنے کا الزام ہے۔ استغاثہ نے مرسی پر فلسطین کے حماس اور لبنان کے جنگجو گروپ حزب اللہ کے ساتھ اتحاد کرنے کا الزام لگایا ہے۔
  • سنہ 2011 میں صدر حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کے دوران ایک جیل توڑنے کے عمل میں قید خانے کے افسروں کے قتل کا الزام ہے۔
  • عدلیہ کی توہین کا الزام ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعے کو مسٹر مرسی کے حامیوں نے دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرے کیے

محمد مرسی کے اسلام پسند حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سیاسی مفادات سے متاثر ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت آزادانہ اور منصفانہ ہے۔

مرسی کو اسکندریہ کی جیل سے سنیچر کی صبح ہیلی کاپٹر سے لایا گيا ہے اور نیشنل پولیس اکیڈمی پر زبردست سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں جہاں ان کے مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔

مرسی کے اسلام پسند حامی صدر کی حیثیت سے ان از سر نو بحالی کے لیے مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ان کے خلاف سختی کے ساتھ کام لیا جا رہا ہے۔ ابھی تک ان مظاہروں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ دنوں اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور حکام نے اس جماعت کی سر عام حمایت کرنے والوں کو سزائیں دی ہیں۔

حقوق انسانی کی تنظیم نے محمد مرسی کے خلاف بعض الزامات کو عقل کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اسی بارے میں