روس ہتھیاروں کی جلد منتقلی کے لیے شام پر دباؤ ڈالے: کیری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس ملاقات میں بعد میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور خصوصی ایلچی اخضر براہیمی بھی شریک ہوئے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب پر زور دیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کے منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے شامی حکومت پر دباؤ ڈالے۔

یہ بات انھوں نے روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو سے جمعے کو جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس کے دوران ملاقات میں کہی۔

خبر رساں ادارے رؤئٹرز نے امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ جان کیری اور سرگئی لاوروف نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ہٹانے میں واشنگٹن کے لیے ’ناقابلِ قبول‘ سست روی کے معاملے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔

کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی میں سستی پر امریکی ’تشویش‘

شام پر مذاکرات بڑی پیش رفت کے بغیر ختم

اس ملاقات میں بعد میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی بھی شریک ہوئے۔

اہلکار نے بتایا کہ جان کیری نے سرگئی لاوروو پر زور دیا کہ’وہ شامی حکومت پر زور دیں کہ وہ باقی ماندہ کیمیائی ہتھیاروں کو لتاکیہ کے بندرگاہ پر پہنچانے میں تیزی کرے۔‘

امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے بھی جمعرات کو پولینڈ میں صحافیوں سے بات چیت کرنے ہوئے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بیرونِ ملک منتقلی کے نظام الاوقات میں سستی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کو رواں برس 30 جون تک تلف کرنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ اس منصوبے کے تحت شامی حکام ان کیمیائی ہتھیاروں کو بحفاظت اور جلد تلف کرنے کے لیے ملک سے باہر منتقل کرنے کے پابند ہیں۔

جان کیری نے شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسان بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اخضر براہیمی اگلے ہفتے دوسرے مذاکراتی دور میں مزید پیش رفت کے لیے پر امید ہیں

خیا ل رہے کہ شام کے معاملے پر سوئٹزر لینڈ میں اس ہفتے ہفتے ہونے والے امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ہی ختم ہوگئے تھے۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں ایک ہفتے سے جاری مذاکرات میں فریقین مخمصے کا شکار ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔ آئندہ مذاکرات کے لیے 10 فروری کی تاریخ چنی گئی ہے۔

مذاکرات کے بعداقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اگرچہ حالیہ مذاکرات میں پیش رفت انتہائی سست تھی تاہم ان مذاکرات میں ایسی باتیں سامنے آئیں جن کو بنیاد بنا کر دونوں فریقین معاملے کے حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

اخضر براہیمی کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ہفتے دوسرے مذاکراتی دور میں مزید پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔ ’مجھے کچھ اتفاق نظر آیا ہے جس کا شاید دونوں فریقین کو بھی احساس نہیں ہے۔‘

اخضر براہیمی کے مطابق شامی حزبِ اختلاف نے آئندہ مذاکرات میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے مگر حکومتی وفد کو دمشق سے ابھی اس کی اجازت لینا ہے۔

شام میں سنہ 2011 سے جاری شورش میں کم سے کم ایک لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں