منڈیلا کی وصیت کا اعلان، 41 لاکھ ڈالر کی جائیداد

Image caption منڈیلا کی وصیت پر عملدرآمد کے لیے تین رکنی کمیشن قائم کیا گیا ہے جس کے سربراہ جسٹس ڈکگینگ موسینیکے جو جنوبی افریقہ کی آئینی عدالت کے نائب سربراہ ہیں

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا نے اپنے پیچھے ورثے میں 41 لاکھ ڈالر سے زیادہ مالیت کی جائیداد چھوڑی ہے۔

یہ بات نیلسن منڈیلا کی وصیت پر عملدرآمد کرنے والی کمیٹی نے بتائی ہے۔

اس رقم میں سے منڈیلا کے خاندانی ٹرسٹ کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر ملیں گے جبکہ دوسرے اداروں میں افریقن نیشنل کانگریس کے ذاتی کارکنوں اور کئی سکولوں کو بھی رقم ملے گی۔

نیلسن منڈیلا کی تیسری اہلیہ گراسا مشل کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ جائیداد پر اپنے حق سے دستبردرا ہو جائیں گی اگرچہ وہ اس کے نصف کی حقدار ہیں۔

نیلسن منڈیلا کا گزشتہ سال دسمبر میں 95 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔

سابق صدر کی جائیداد میں جوہانسبرگ کے مہنگے علاقوں میں ایک مکان، اپنے آبائی علاقے میں ایک معمولی مکان اور ان کی کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی رائلٹی جن میں ان کی خود نوشت سوانح حیات ’لانگ واک ٹو فریڈم‘ شامل ہیں۔

عملدرآمد کروانے والے جسٹس نے کہا کہ ’انہیں 40 صفحات پر مشتمل وصیت پر کسی اعتراض کا علم نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گراسا مشل کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ جائیداد پر اپنے حق سے دستبردرا ہو جائیں گی اگرچہ وہ اس کے نصف کی حقدار ہیں

جوہانسبرگ میں نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے دفتر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جائیداد کو نیلسن منڈیلا کی جانب سے بنائی گئی تین فاؤنڈیشنوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں ایک ٹرسٹ بھی شامل ہے جو ان کے تیس کے قریب بچوں اور پوتے پوتیوں اور ان کے بچوں کو رقم فراہم کرے گی۔

جن سکولوں میں نیلسن منڈیلا نے تعلیم حاصل کی ان سب کو ایک لاکھ رینڈ فی سکول ملے گا۔ وظیفے جاری کرنے کے لیے جن میں ’وٹس‘ اور ’فورٹ ہیئر یونیورسٹی‘ شامل ہیں۔

افریقن نیشنل کانگریس کو بھی کتابوں کی رائلٹی ملے گی۔

نیلسن منڈیلا کے تمام بچوں کو تین لاکھ ڈالر قرضہ ان کی زندگی میں دیا گیا تھا اور اب اگر اسے واپس نہیں کیا گیا تو وہ ختم کر دیا جائے گا۔

ان کے قریبی ذاتی کارکنوں کو جن میں دیرینہ معاون زیلدہ لا گرینج شامل ہیں کو 50 ہزار رینڈ فی کس ملے گا۔

جوہانسبرگ کے علاقے ہاؤٹن میں واقع گھر میں ان کے بیٹے مکگاتھو کا خاندان رہائش پذیر ہو گا۔ مکگاتو کا انتقال ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگرچہ منڈیلا کے خاندان کے افراد وصیت سے خوش تھے اس کے باوجود یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے بعد ان کے خاندان میں ایک بار پھر لڑائیاں شروع نہ ہو جائیں

نیلسن منڈیلا نے اپنی وصیت میں لکھا کہ ’میری خواہش ہے کہ میرا یہ گھر منڈیلا خاندان کے جمع ہونے کی جگہ بن جائے تاکہ وہ میری وفات کے بعد بھی اپنا اتحاد قائم رکھ سکیں۔‘

جسٹس نے کہا کہ جب منڈیلا خاندان کے سامنے وصیت پڑھی جا رہی تھی تب ان کا خاندان بہت جذباتی تھا مگر سب ان کی وصیت سے خوش تھے۔

اس کے باوجود یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے بعد ان کے خاندان میں ایک بار پھر لڑائیاں شروع نہ ہو جائیں۔

اسی بارے میں