برطانیہ نے محض مشورہ دیا، عملی مدد نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گولڈن ٹیمپل پر حملے کا مقصد علیحدگی پسند سکھوں کو وہاں سے باہر نکالنا تھا

برطانوی ارکانِ پارلیمان کو بتایا گیا ہے کہ سنہ 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے مہلک حملے میں برطانیہ نے بھارت کی مدد کی تھی لیکن اس کا اثر’محدود ‘ تھا۔

یہ بات وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے منگل کو ایوان میں اس رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتائی جس میں ان دعوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے کہ برطانیہ کی سپیشل فورس (ایس اے ایس) نے اس حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کی تھی جس میں سینکڑوں افراد ہلاک کر دیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل پر حملے کا مقصد علیحدگی پسند سکھوں کو وہاں سے باہر نکالنا تھا۔

بھارتی فوج کے ’آپریشن بلیو سٹار‘ میں علیحدگی پسند سکھوں کے سربراہ جرنیل سنگھ بِھنڈراں والے سمیت سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی حکومت کا موقف تھا کہ حملے میں 87 فوجیوں سمیت 400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ البتہ سکھوں کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے جن میں وہاں عبادت کے لیے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔

حملے میں برطانیہ کی مدد کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے بتایا کہ اس کی نوعیت ‘محض مشاورانہ‘ تھی اور یہ مدد بھی حملے سے مہینوں پہلے دی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دور کی خفیہ دستاویزات منظر پر آئیں تھیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کی حکومت آپریشن بلیو سٹار نامی کارروائی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھی۔ ان انکشافات کے بعد وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس معاملے کی مذید تحقیقات کا حکم دیا تھا

بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آپریشن بلیو سٹار میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 575 تھی، تاہم وزیر خرجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ دیگر اطلاعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3000 تک بتائی جاتی ہے جن میں کئی سکھ یاتری بھی شامل تھے۔ ولیم ہیگ نے ایوان میں کہا کہ اس کارروائی میں ’ جانوں کا نقصان بڑا المیہ‘ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ ابھی تک اس درد اور کرب کو محسوس کرتے ہیں۔‘

ولیم ہیگ نے ایوان کو بتایا کہ برطانیہ کو بھارت کی جانب سے فوری مدد کی درخواست موصول ہوئی تھی جس میں بھارتی حکام نے گولڈن ٹیمپل پر سکھ دہشگردوں کا کنٹرول ختم کرنے میں مدد کے لیے کہا تھا۔ اس درخواست کے جواب میں ایک برطانوی فوجی مشیر کو فروری سنہ 1984 میں بھارت بھیجا گیا تھا جس نے تجویز کیا تھا گولڈن ٹیمپل پر حملہ صرف آخری حربے کے طور پر کیا جائے۔

وزیرِ خارجہ کے مطابق برطانوی مشیر نے متوقع اموات کو کم رکھنے کی خاطر کارروائی میں ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا، لیکن جب آخری کارروائی کی گئی تو ان مشوروں کو شامل نہیں کیا گیا۔ولیم ہیگ نے مذید بتایا کہ اس کارروائی کے لیے برطانیہ کی طرف سے آلات یا تربیت کی پیشکش نہیں کی گئی اور اس مشاورت کے بعد کے تین مہینوں میں بھارتی منصوبے میں ’بہت تبدیلی‘ کی گئی۔