’یوکرین کی حزبِ اختلاف دھمکیاں دینا بند کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی یونین اور امریکہ مقروض یوکرین کی مدد کے لیے بڑھے قرضے پر غور کر رہے ہیں

روس نے یوکرین کے حزبِ اختلاف کو ’الٹی میٹم اور دھمکیاں دینے‘ بند کرنے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ماسکو کو کارکنوں کی طرف سے حالات کو ’اشتعال انگیز‘ بنانے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

کیئف میں مظاہرین نے صدر وکٹر یانوکووچ سے استعفے کا اپنا مطالبہ دہرایا ہے۔ صدر 4 دن کی علالت کے بعد کام پر واپس آ گئے ہیں۔

خِیال رہے کہ حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی۔

اتوار کو ہزاروں افراد نے کیئف کے مرکز میں ہونے والی ایک بڑی ریلی میں شرکت کی جہاں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی۔

روس کے وزارتِ خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں مظاہرین کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’ہمیں یوکرین میں حزبِ اختلاف سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ الٹی میٹم اور دھمکیاں دینا بند کریں اور ملک کو آئینی کے مطابق بحران سے نکالنے کے لیے حکومت سے مذاکرات کو آگے بڑھائیں۔‘

ادھر یورپی یونین اور امریکہ مقروض یوکرینکی مدد کے لیے ایک بڑھے قرضے پر غور کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کیِ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی ایک ترجمان نے کہا کہ’ہم سیاسی اور معاشی مشکلات کے شکار یوکرین کو مدد فراہم کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔‘

اس منصوبے کی مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں ہیں لیکن ای یو اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مدد کے لیے یوکرینکو ’حقیقی اصلاحات‘ کرنی ہوں گی۔

یورپین کمیشن کے صدر جوز مینئل باروسو نے اس بات پر اصرار کیا کہ ای یو یوکرین کی وفاداری حاصل کرنے کے لیے روس کے ساتھ’بولی‘ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

روس نے یوکرین کو گذشتہ سال 15 ارب امریکی ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اس مدد کی دوسری قسط اس وقت نہیں دے گا جب تک نئی حکومت نہیں بن جاتی کیونکہ گذشتہ ہفتے وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ مستعفی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں