سوچی اولمپکس: ہم جنس پرستوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP PHOTO NASA TV
Image caption گذشتہ سال روس نے ’غیر روایتی‘ جنسی تعلق کے فروغ پر پابندی عائد کی تھی

روس کے شہر سوچی میں 2014 کے اولمپکس کے آمد پر ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکن بدھ کو دنیا کے مخلتف شہروں میں روسی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

یہ احتجاج سرمائی اولمپکس کi آغاز سے دو دن پہلے کیا جا رہا ہے جس کا مقصد سرمائی اولمپکس کے سپانسروں کو روس کے ہم جنس پرستی سے متعلق متنازع قانون کے معاملے پر آواز اٹھانے پر مائل کرنا ہے۔

سرمائی اولمپکس سوچی میں سات فروری سے شروع ہو رہے ہیں۔

گذشتہ سال روس نے ’غیر روایتی‘ جنسی تعلقات کے فروغ پر پابندی عائد کی تھی جسے ہم جنس پرستوں کے حقوق پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

توقع ہے کہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے معاملے پر روس کی حکومت کے خلاف دنیا کے 19 شہروں میں احتجاج ہوگا۔ ان میں لندن، نیویارک اور سینٹ پیٹرزبرگ شامل ہیں۔

کارکن چاہتے ہیں کہ اولمپکس کے میکڈونلڈ، کوکا کولا، سام سنگ اور ویزا کریڈٹ جیسے سپانسر روس کے ہم جنس پرستی کے بارے میں قانون کے خلاف بات کریں۔

روس کے نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کو ہم جنس پرستی سے متعلق معلومات دینے پر پابندی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی آزادانہ تشریح سے روس میں ہم جنس پرستوں کے قانون تقریباً غصب ہو جاتے ہیں۔

اس قانون کی وجہ سے سوچی اولمپکس تنازعات کا شکار ہو گئے ہیں۔

برابری کے حقوق کی مہم ’آل آؤٹ‘ کی ڈائریکٹر میری کیمبل نے بی بی سی کو بتایا کہ روس کا نیا قانون اولمپکس کے جذبے کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے تمام اراکین اور دنیا بھر کے لوگ اولمپکس کے شخصی آزادی، برداشت اور وقار کے اقدار کا جشن منانا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ روس میں ہو رہا ہے جہاں ہم جنس پرستوں کے خلاف قوانین بنے ہیں، جن سے لاکھوں لوگوں اولمپکس کی اقدار سے محروم ہو رہے ہیں۔‘

گذشتہ مہینے روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ ہم سوچی اولمپکس میں ہم جنس پرستوں کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ’بچوں کو اس دور رکھیں۔‘ روسی حکام پر یہ الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ انھوں نے اولمپکس کی تیاری کے لیے سوچی میں تعمیراتی کام میں حصہ لینے والے غیرملکی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں