مصر:السیسی کا صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو ہٹانے کی کارروائی میں جنرل السیسی کا بے حد اہم کردار تھا

مصرکے فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ وہ ملک کے صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

جب جنرل السیسی سے جب ایک کویتی اخبار السیاسہ نے پوچھا کہ کیا وہ صدارتی انتخاب لڑیں گے تو انھوں نے کہا کہ کہ مصر کے عوام کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے وہ صدارتی انتخاب کے دوڑ میں شامل ہوں گے۔

انھوں نے السیاسہ کو بتایا کہ’میں لوگوں کے مطالبے کو مسترد نہیں کروں گا۔‘

جنرل السیسی نے مزید کہا کہ’میں لوگوں کو یہ موقع دونگا کہ وہ آذادانہ طور پر ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اعتماد کو دوبارہ بحال کرے۔‘

جنرال السیسی کی طرف سے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی لیکن فوج نے ابھی تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔

ملک کی فوجی انتظامیہ نے گذشتہ مہینے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو صدارتی انتخاب میں امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر السیسی صدارتی امیدوار کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں تو وہ توقع ہے کہ وہ واضح اکثریت سے جیت جائیں گے۔

جولائی سنہ 2013 میں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو ہٹانے کی کارروائی میں جنرل السیسی کا بے حد اہم کردار تھا۔

محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے جنہیں مظاہروں کے بعد فوج نے معزول کر دیا گیا تھا۔

صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین اور اس کے اتحادیوں نے جنرل السیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ قاتل کو سزا دلوانا چاہتے ہیں، انھیں صدر نہیں بنانا چاہتے۔‘

مصر میں اخوان المسلمین اور اس کے حامی صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے فوج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ملک کی موجودہ حکومت نے اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے. حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری تشدد حملوں کے پیچھے اخوان المسلمون کا ہاتھ ہے۔ اخوان المسلمین اس بات سے انکار کرتی آئی ہے۔

اخوان المسلمین کے خلاف سرکاری کارروائی کے ساتھ ان لوگوں پر بھی تیزی سے کارروائی ہوئی ہے جنہیں فوج مخالف سمجھا جاتا ہے۔ کئی صحافی اور سیکولر سماجی کارکنوں کو بھی سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ ملک پر حسنی مبارک کے زمانے میں قابض فوجی تنظیم مصر کو ایک بار پھر سے اپنی گرفت میں لے رہے ہیں۔

گذشتہ مہینے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے مصر بے مثال پیمانے پر تشدد کا سامنا کر رہا ہے۔

تنظیم نے مصر کی فوج پر الزام لگايا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے۔

اسی بارے میں