یروشلم میں نئی یہودی بستیاں بنانے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں تقریباً ایک سو یہودی بستیوں میں تقریباً پانچ لاکھ یہودی رہتے ہیں

اسرائیلی حکام نے مشرقی یروشلم میں یہودی آبادیوں میں 558 نئے مکانات بنانے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

یروشلم کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ان کی کمیٹی برائے شہری منصوبہ بندی نے تین علاقوں میں عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ مکانات اس علاقے میں تعمیر کیے جا رہے ہیں جو 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل نے قبضے میں لے لیے تھے اور بین الاقوامی برادری اس علاقے پر اسرائیلی قبضے کو قانونی نہیں سمجھتی۔

عالمی قوانین کے تحت ان علاقوں میں اسرائیلی تعمیرات غیر قانونی ہیں تاہم اسرائیل اس موقف کی تردید کرتا ہے۔

سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ حر حوما، نیوو یاکوو اور پسگت زیوو کے علاقوں میں تعمیرات کی اجازت دی گئی ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جولائی میں امریکی کی مدد سے شروع ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچے گا۔

سینیئر فلسطینی اہلکار حنان اشواری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل جان بوجھ کر فلسطینیوں کو اکسا رہا ہے تاکہ وہ مذاکرات ترک کر دیں۔ اسی لیے مذاکرات کی ناکامی کا انہیں ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔‘

پچھلی بار بھی یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ ہی مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنی تھیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی مدد سے عمل میں لائے جانے والے تازہ ترین براہِ راست مذاکرات میں زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

سٹی کونسل کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی منظوری تو کئی سال قبل دی جا چکی تھی اور یروشلم کے عرب علاقوں میں نئی عمارت کی تعمیر کی منظوری بدھ کو دی گئی ہے۔

غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں تقریباً ایک سو یہودی بستیوں میں تقریباً پانچ لاکھ یہودی رہتے ہیں۔

مشرقی یروشلم میں تقریباً دو لاکھ یہودی اور 370،000 فلسطینی مقیم ہیں۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت مانتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل میں اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں