شام:حمص میں محصور شہریوں کا انخلا شروع

تصویر کے کاپی رائٹ re
Image caption حمص میں تقریباً تین ہزار عام شہری پھنسے ہوئے ہیں

شامی شہر حمص میں فریقین کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے بعد وہاں پھنسے ہوئے عام شہریوں کے انخلا کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

حمص میں ایک اندازے کے مطابق 3000 کے قریب شہری اپنے گھروں میں محصور ہیں اور شامی حکام کے مطابق سنیچر کو ایک بس کے ذریعے 12 معمر افراد کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔

شامی حکومت نے جمعرات کو بتایا تھا کہ حمص میں پھنسے ہوئے ’معصوم شہریوں‘ کے انخلا کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق حمص کے گورنر اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت خواتین، بچوں، بوڑھوں اور زخمیوں کو شہر سے نکلنے دیا جائے گا۔

حمص میں پرانے شہر کے کچھ حصے جون 2012 سے زیرِ محاصرہ ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کے ترجمان فرحان خان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کی ساتھی تنظیموں نے شہر کے باہر ہی امدادی سامان رکھا ہوا تھا تاکہ اجازت ملتے ہی سامان فوری طور پر متاثرین تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی کارکن بھی وہیں موجود ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک ترجمان نے بھی ان اطلاعات کا خیر مقدم کیا ہے۔

تاہم ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ ہمیں بشار الاسد کی حکومت کی اس بات پر تعریف نہیں کرنی چاہیے کہ انہوں نے چند روز کے لیے کچھ لوگوں کو کھانا دینے کا اعلان کیا ہے کیونکہ یہ متاثرین کا انسانی حق ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا ’یہ انہیں شروع ہی سے کرنا چاہیے تھا۔‘

شام میں ریڈ کراس نے بی بی سی کو بتایا کہ امید کی جا رہی ہے کہ جمعے کو لوگوں کا انخلا ممکن ہو سکے گا اور اگلے روز باقی عام شہریوں کے لیے امدادی سامان لے جایا جا سکے گا۔

گذشتہ ماہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان جنیوا میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔

حزبِ اختلاف کی باغی فورسز کی جانب سے اس انخلا کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

اس کے علاوہ شامی حکومت نے امریکہ کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کیمیائی ہتھیار ہٹانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

امریکہ کے نائب سیکریٹری دفاع اینڈریو ویبر نے یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا تھا جب شام بین الاقوامی سطح پر دی گئی تاریخ تک کیمیائی ہتھیاروں کو ملک سے نکالنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

ادھر روس نے کہا ہے کہ اسے شام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مارچ کے اوائل تک ہتھیاروں کی منتقلی کا عمل مکمل کر دے گا۔

حمص شام کا تیسرا بڑا شہر ہے اور صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم رہا ہے۔ شہر کا بیشتر حصوں پر باغی فورسز کا قبضہ تھا تاہم حکومتی فوج نے اکثر حصہ واپس لے لیا ہے اور شہر کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔

اس شہر میں تقریباً تین ہزار عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں