ترکی میں انٹرنیٹ کی نگرانی کا نیا قانون زیرِ غور

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption ایک رکنِ پارلیمان نے اس مجوزہ قانون پر بحث کا آغاز وزیرِ اعظم طیب اروغان کے اقدامات کو جنگِ عظیم دوئم میں جرمنی کے سربراہ ہٹلر کے طریقے کار سے موازنہ کر کے کیا

ترک پارلیمان میں انٹرنیٹ قوانین کے حوالے سے ایک نیا قانون زیرِ غور ہے جسے حزبِ اختلاف آزادئ اظہارِ رائے پر ضرب کے مترادف قرار دے رہی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت ترکی میں ٹیلی کام کا نگراں ادارہ عدالتی وارنٹ کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ کو بند کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ دو سال تک صارفین کی معلومات سٹور کر کے رکھیں اور جب بھی حکام ان کا مطالبہ کریں، وہ ان کے حوالے کی جائیں۔

ترکی میں انٹرنیٹ پہلے ہی محدود ہے اور ہزاروں ویب سائٹوں کو بلاک کیا گیا ہے۔

حکومت ان الزامات کی تردید کر رہی ہے کہ یہ قانون سینسر شپ کے مترادف ہے۔

تاہم ایک رکنِ پارلیمان نے اس مجوزہ قانون پر بحث کا آغاز وزیرِ اعظم طیب اروغان کے اقدامات کو جنگِ عظیم دوئم میں جرمنی کے سربراہ ہٹلر کے طریقے کار سے موازنہ کر کے کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق، پاکستان بھی انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق درجہ بندی میں 2012 کے مقابلے میں 2013 میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔ امریکی غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ ’انٹرنیٹ پر آزادی 2013‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری طریقے سے اقتدار کی تاریخی منتقلی کے بعد بھی حکومت نے انٹرنیٹ پر سیاسی و سماجی مواد بلاک کرنے کا عمل جاری رکھا ہے جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بظاہر نگرانی ہو رہی ہے۔

فریڈم ہاؤس کی سالانہ رپورٹ 60 ممالک میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے اور پاکستان سے متعلق اس رپورٹ کا باب غیر سرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان اور فریڈم ہاؤس نے مل کر تیار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال انٹرنیٹ کے معروف سرچ انجن گوگل نے کہا تھا کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے گوگل کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے تقریباً اکیس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں اور ترکی نے انٹرنیٹ پر شائع مواد ہٹانے کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دیں جو اس ضمن میں سر فہرست ہے۔

اسی بارے میں