پاپائے روم کی موٹر سائیکل 210000 یورو میں نیلام

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ سال جون میں ہارلی ڈیوڈسن کی ایک سو دسویں سالگرہ کے موقعے پر یہ موٹر سائیکل پاپائے روم کو تحفے میں دیا گیا تھا

پاپائے روم پوپ فرانسز کا ایک ہارلی ڈیوڈسن موٹر سائیکل دو لاکھ دس ہزار یوروز کا نیلام کیا گیا ہے۔

موٹر سائیکل کو فرانسیسی دارالحکومت میں بے گھر افراد کی امداد کرنے والے ایک خیراتی ادارے کی مدد کے لیے نیلام کیا گیا ہے۔

موٹر سائیکل خریدنے والے شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم اس نے نیلامی میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کی۔

1585 سی سی کے اس ڈینا سپر گلائڈ موٹر سائیکل پر پاپائے روم نے دستخط تو کیے تاہم بظاہر اس کی کبھی سواری نہیں کی۔

گذشتہ سال جون میں ہارلی ڈیوڈسن کی ایک سو دسویں سالگرہ کے موقعے پر یہ موٹر سائیکل پاپائے روم کو تحفے میں دیا گیا تھا۔

نیلامی کی ابتدائی قیمت صرف بارہ ہزار یوروز رکھی گئی تھی تاہم نیلام گھر بونمز کے بن والکر نے نیلامی سے پہلے کہا تھا کہ موٹر سائیکل اس سے کہیں زیادہ قیمت میں فروخت ہو سکتا ہے۔

اس موقعے پر نیلامی میں بولی لگانے والی اتنے شرکا سامنے آئے کہ نیلام گھر کی فون لائینیں کم پڑ گئیں اور کچھ ممنکہ خریداروں کو شرکت کا مقع نہیں مل سکا۔

موٹر سائیکل کے ساتھ چمڑے کی ایک جیکٹ بھی 50000 یوروز میں بیچی گئی ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں ایک اطالوی پادری نے پوپ فرانسز کو بیس سال پرانی رینو فور کار تحفے میں دی ہے تاکہ وہ ویٹیکن سٹی کے اندر خود ہی گھوم پھر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 1585 سی سی کے اس ڈینا سپر گلائڈ موٹر سائیکل پر پاپائے روم نے دستخط تو کیے تاہم بظاہر اس کی کبھی سواری نہیں کی

ارجنٹائن میں پیدا ہونے والے پوپ فرانسس اسی سال اس وقت پوپ بنے جب پوپ بینڈکٹ نے اپنے عہدہ سے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ وہ پہلے پوپ ہیں جن کا تعلق یورپ کے باہر سے ہے۔

گذشتہ سال مارچ میں منتخب ہونے کے بعد سے پاپائے روم ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ 2013 کے لیے امریکی جریدے ٹائم میگزین نے پوپ فرانسس کو ’پرسن آف دی ایئر‘ منتخب کیا۔

انہوں نے ہم جنس پستی کے معاملے پر چرچ کی پوزیشن میں نرمی کی جانب اشارہ کیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم جنس پرست افراد کو الگ تھلگ کرنے کی بجائے انہیں معاشرے کا حصہ بنانا چاہیے۔

پوپ کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے اور خدا کو چاہتا ہے اور نیک نیت ہے تو پھر میں کون ہوتا ہوں اس کے بارے فیصلہ صادر کرنے والا۔‘

تاہم دوسری جانب عیسائیوں کے روحانی پیشوا نے چرچ سے متعلق ایک اور تنازع اسقاطِ حمل کے خلاف ایک سخت ترین بیان جاری کیا جس میں انھوں نے اسقاطِ حمل کو انسانی جان کی قدر نہ کرنے والے معاشرے میں ’فالتو چیزیں پھینک دینے کے رجحان‘ کی ایک خوفناک علامت قرار دیا۔

اسی بارے میں