تاریخ میں پہلی بار ہسپانوی شہزادی عدالت میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہسپانوی شہزادی اور ان کے شوہر ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں

یورپی ملک سپین کی شہزادی کرسٹینا سے ان کے شوہر کے کاروباری لین دین سے منسلک دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں عدالت میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

یہ سپین کے شاہی خاندان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی شاہی شخصیت کو مجرمانہ تفتیش کے لیے عدالت میں پیش ہونا پڑا ہے۔

سپین کے بادشاہ ہوآن کارلوس کی چھوٹی بیٹی ایفانتا کرسٹینا کے شوہر ڈیوک آف پالما اناکی اردنگارین پر مقامی حکومتوں سے مبینہ طور پر لاکھوں یورو ٹھگنے کے الزامات ہیں۔

اناکی پر دو مقامی حکومتوں کے پروگرام منعقد کرنے کے عوض زیادہ رقم لینے کے الزامات ہیں جبکہ ان سے ٹیکس فراڈ اور پیسوں کے لین دین کے سلسلے میں بھی پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

شہزادی اپنے شوہر کے کاروباری معاملات سے منسلک ہیں اور ان پر اس رقم کا کچھ حصہ ذاتی اخراجات پر خرچ کرنے کا الزام ہے۔

ہسپانوی شہزادی اور ان کے شوہر ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں اور ابھی ان پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔

48 سالہ شہزادی كرسٹینا اپنے وکیل کے ساتھ عدالت پہنچیں اور بند کمرے میں ہونے والی سماعت کے دوران درجنوں سوالوں کے جواب دیے۔

گذشتہ برس شہزادی کرسٹینا کے شوہر کی جائیداد اس وقت ضبط کر لی گئی تھی جب ان پر ایک فلاحی ادارے کو دیے گئے لاکھوں یوروز کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

میڈرڈ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ٹام برج کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ بدعنوانی کے اس مقدمے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہی جو سپین میں گزشتہ تین سالوں سے سرخیوں میں ہے۔

سپین میں عام خیال ہے کہ اس معاملے سے شاہی خاندان کی شبیہ اور اعتماد کو نقصان پہنچا ہے اور اس سکینڈل کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ملک کے 76ویں بادشاہ ہوآن کارلوس کی مقبولیت میں بھی کمی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں