سوئس عوام یورپی امیگریشن محدود کرنے کے حامی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سوئٹزرلینڈکی 80 لاکھ کی آبادی میں سے تقریباً 25 فیصد غیر ملکی ہے

سوئس عوام کی جانب سے یورپی ممالک سے امیگریشن محدود کرنے کے حق میں فیصلے کے بعد یورپی یونین نے سوئٹزرلینڈ سے اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔

اس ریفرینڈم میں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا اور تجویز کے حق میں پچاس اعشاریہ تین اور مخالفت میں انچاس اعشاریہ سات فیصد ووٹ پڑے۔

نتائج کے مطابق ملک کے دیہی علاقوں کے لوگ امیگریشن محدود کرنے کے حامی اور شہری مخالف نظر آئے اور ریفرینڈم کے بعد اب سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کا آزادانہ نقل و حمل کا معاہدہ منسوخ ہوگیا ہے۔

جینیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار اموگن فوکس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ووٹنگ سے ملک کی روایتی تقسیم واضح ہوئی ہے اور جہاں فرانسیسی بولنے والے علاقے کوٹہ دینے کے خلاف ہیں وہیں اطالوی بولنے والے علاقے اس کے حق میں اور جرمن بولنے والے علاقے منقسم ہیں۔

سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کا رکن نہیں ہے لیکن اس نے یورپی یونین کی پالیسی کو بہت حد تک اپنا رکھا ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اسے ریفرینڈم کے نتائج پر افسوس ہے اور وہ اس کے اثرات کا جائزہ لے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تجویز کے حق میں پچاس اعشاریہ تین اور مخالفت میں انچاس اعشاریہ سات فیصد ووٹ پڑے

سوئس وزیرِ خارجہ دیدیئر برخالتر کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی یورپی ممالک کا دورہ کریں گے اور صورتحال کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

یورپی یونین کے مطابق اس کا ردعمل اس بات پر منحصر ہوگا کہ سوئس حکومت اس معاملے پر کیسی قانون سازی کرتی ہے۔

خیال رہے کہ اس ریفرینڈم کے نتائج کا اثر سوئٹزرلینڈ کے یورپی یونین سے کیے گئے کئی اہم معاہدوں پر پڑ سکتا ہے جس میں سوئس اشیا کی یورپی مارکیٹ تک رسائی بھی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی برآمدات میں سے نصف سے زیادہ یورپی مارکیٹ میں ہی فروخت ہوتی ہیں۔

فی الحال سوئس معیشت ترقی کر رہی ہے اور ملک میں بیروزگاری بہت کم ہے لیکن سوئس عوام کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ یورپی ممالک سے لوگوں کی آمد یہ صورتحال تبدیل کر سکتی ہے۔

اس وقت سوئٹزرلینڈکی 80 لاکھ کی آبادی میں سے تقریباً 25 فیصد غیر ملکی ہے اور گذشتہ برس 80 ہزار نئے تارکینِ وطن سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے۔

2007 سے یورپی ممالک کی آبادی کو سوئٹزرلینڈ میں روزگار کی تلاش کے لیے سوئس شہریوں جتنے مواقع ہی میسر ہیں لیکن دائیں بازو کے خیالات والی سوئس پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ یہ صورتحال تبدیل ہو اور وہ اس فیصلے کو ایک بڑی غلطی قرار دیتی ہے۔

اسی بارے میں