ڈینیئل پرل کے قاتل کا ہاتھ

Image caption عذرا نعمانی ڈینیئل پرل کے ساتھ پاکستان آئی تھیں اور ان کے قتل کے بعد قاتلوں کی تلاش کے منصوبے پر کام کرتی رہیں

ڈینیئل پرل کے قتل کواس سال فروری میں 12 برس ہو گئے ہیں۔ اس موقعے پر ان کے ساتھ کام کرنے والی صحافی عذرا نعمانی نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈینیئل پرل کے قاتل کا پتہ چلانے کی کوشش کی۔

عذرا نے بی بی سی ورلڈ سروس کے ریڈیو پروگرام ’آؤٹ لُک‘ کے میزبان میتھیو بینسٹر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈینیئل پرل کے اغوا اور اس کے بعد ان کے قتل کے معاملے میں خالد شیخ محمد پر مقدمے کے دوران وہ ان سے ملنے کے لیے گوانتانامو بے گئی تھیں:

انہیں دیکھ کر مجھے تقریباً ایک دہائی پہلے کا وہ واقعہ پھر یاد آ گیا اور ڈینیئل پرل کے قتل والی ویڈیو میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئی جس میں یہ شخص چاقو لیے میرے دوست کا گلا کاٹ رہا تھا۔

عدالت میں ایک ایسا لمحہ بھی آیا جب میں نے محسوس کیا کہ میں شیخ محمد کی آنکھیں دیکھنے نہیں آئی تھی بلکہ اس کے ان ہاتھوں کو دیکھنا چاہتی تھی جنہوں نے پرل کو قتل کیا تھا۔

میں نے ان ہاتھوں کو کیمرے میں قید کرنا چاہا اور عدالت میں جب اس نے ایک پنسل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو میں نے اسی لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے اس کے ہاتھوں کی تصویر کھینچ لی۔

قاتل کا اشارہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈینیئل پرل وال سٹریٹ جرنل کے لیے کام کرتے تھے

دراصل اس معاملے میں امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کے حکام نے ڈینیئل پرل کے قتل کی ویڈیو میں دکھائے گئے قاتل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ پرل کو خالد شیخ محمد ہی نے قتل کیا تھا۔

اس ٹیکنالوجی کو ’وین ٹیکنالوجی‘ یا رگوں کی ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے اور اس کے ذریعے ہاتھ کی رگوں میں مماثلت ڈھونڈی جاتی ہے۔

میں خالد شیخ محمد کے ہاتھ کی ان رگوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جن کے ذریعے پرل کے اصلی قاتل کے طور پر اس کی شناخت ہو سکتی تھی۔

خالد شیخ محمد نام کے شخص ہی نے ڈینیئل پرل کو مارا تھا اور 11 ستمبر کے واقعے میں بھی اسی کا ہاتھ تھا۔

کراچی میں کئی ہفتے پرل کے قاتلوں کی تلاش میں بھٹکنے کے بعد میں امریکہ چلی گئی تھی لیکن وہاں بھی میں اپنے اس مقصد میں جٹی رہی۔

پرل پروجیکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈینیئل پرل کے قتل کی ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری کی گئی تھی

اسی مقصد سے 2007 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے ساتھ میں نے پرل پروجیکٹ پر کام کیا اور اس میں ہم پوری چھان بین کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ پرل کا قتل قندہار سے اغوا کیے گئے طیارے سے رہا کیے گئے پاکستانی نژاد برطانوی شہری عمر شیخ نے نہیں، بلکہ خالد شیخ محمد نے کیا ہے۔

پہلے امریکی اہل کار اس معاملے میں کارروائی نہیں کر رہے تھے لیکن بعد میں خالد شیخ محمد نے خود پرل کے قتل کی ذمے داری قبول کر لی اور بعد میں انھیں گرفتار کر کے گوانتانامو بے بھیج دیا گیا۔

دراصل ہم لوگ کئی دوسرے صحافیوں کی طرح نو ستمبر کے واقعے کے حملہ آوروں کی تلاش میں نکلے اور پاکستان پہنچے۔ 23 جنوری 2002 کو ہم لوگ کراچی آ گئے۔

ڈیني کے ساتھ میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ اس کا مسکراتا چہرہ ہمیشہ سامنے آ جاتا ہے۔ جب آخری بار وہ ہم سے الگ ہوئے تھے تو میں نے ڈرائیور سے کہا تھا کہ ان کا خیال رکھنا۔ دراصل ڈیني اس شخص سے ملنے جا رہا تھا جو طالب علم تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ شیخ محمد سے مل چکا ہے۔

ڈینی کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈینیئل پرل کے قتل پر فلم بھی بن چکی ہے

جب ڈیني نہیں آئے تو ہم لوگ ساری رات نہیں سوئے اور اگلے دن میں اپنے دوست کامران کے ساتھ ڈیني کو تلاش کرنے گئی اور کراچی پولیس سے مدد مانگی۔ ہم لوگ بہت پریشان تھے اس وقت میں حاملہ بھی تھی۔

ڈینیئل کی تلاش میں میں نے پانچ ہفتے وہاں گزارے۔ ان کی تلاش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، کراچی کی سڑکوں پر ہم لوگ موٹر سائیکل پر بھی گھومے، ان کی ای میلز چیک کیں۔ ہم ہر اس جگہ گئے جہاں ہمیں لگتا تھا کہ ڈیني کے بارے میں کچھ پتہ لگ سکتا ہے۔

کچھ دنوں کے بعد انٹرنیٹ پر ڈینیئل کی موت کی خوفناک ویڈیو آئی تو میں اسے دیکھنا چاہتی تھی لیکن میں نے خود کو روک لیا اور تقریباً ایک سال کے بعد اسے دیکھا۔

گوانتانامو سے واپس لوٹنے کے بعد میں اس طرح غم میں نہیں ڈوبی جس طرح سے پرل کے قتل کے بعد ڈوب گئی تھی۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے کوشش کی کہ میں اپنے خاندان اور اپنے دوستوں کے ساتھ حسبِ معمول زندگی گزاروں۔

(ڈینیئل پرل ایک امریکی صحافی تھے۔ وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ 2002 میں ایک فیچر پر کام کرنے کے لیے کراچی میں تھے۔ انہیں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش کراچی کے مضافات سے ملی تھی۔)

اسی بارے میں