عراق: شدت پسند اپنے ہی بم کا شکار، 21 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں گذشتہ مہینے تشدد کے واقعات میں 618 عام شہری اور 115 سکیورٹی اہل کار مارے گئے

عراق میں حکام نے بتایا ہے کہ ایک کار بم غلطی سے پھٹ جانے کی وجہ سے 21 شدت پسند مارے گئے۔

سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ سامرا شہر سے تقریبا 20 کلومیٹر دور ایک سڑک پر ہوا۔

جب یہ حادثہ ہوا اس وقت دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی شدت پسندوں کے علاقے سے مرکزی سڑک پر لے جائی جا رہی تھی۔

سامرا سنی اکثریتی علاقہ ہے اور اس کے ارد گرد کے علاقے شدت پسندوں کا گڑھ مانے جاتے ہیں۔

حکومت کے حامی سنی جنگجوؤں کے ایک گروپ کے سربراہ نے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جب دھماکہ ہوا اس وقت شدت پسند ممکنہ خود کش حملہ آوروں کی تشہیر کے لیے ویڈیو فلم بنا رہے تھے۔

ایک پولیس افسر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دھماکے کی آواز سن کر جب سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچیں تو وہاں سے 12 شدت پسند زخمی حالت میں اور دس دیگر مشتبہ شدت پسند فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔

گذشتہ سال سے عراق میں تشدد میں خاصی تیزی آئی ہے جو 2007 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں گذشتہ مہینے تشدد کے واقعات میں 618 عام شہری اور 115 سکیورٹی اہل کار مارے گئے۔

اسی بارے میں