امریکی ہسپتال بے ہوش شاہزیب کو پاکستان بھیجنے پر مصر

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption شاہزیب کے بھائی شاہریز باجوہ کا کہنا ہے کہ شاہزیب کے چہرے پر شدید چوٹیں آئی ہیں

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مينياپولس میں ایک پاکستانی طالب علم کے اہلخانہ ہسپتال کے حکام سے استدعا کر رہے ہیں کہ ان کو ہسپتال ہی میں رکھا جائے اور بیماری کی حالت میں پاکستان واپس نہ بھیجا جائے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق 20 سالہ محمد شاہزیب باجوہ وسکانسن کی یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔ پچھلے سال 13 نومبر کو وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جا رہے تھے جب ان کی گاڑی ایک ہرن سے ٹکرا گئی۔

شاہزیب کے بھائی شاہریز باجوہ کا کہنا ہے کہ شاہزیب کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں لیکن جب ان کو ہسپتال لے جایا گیا تو وہ بات چیت کر رہے تھے۔

شاہریز کے بقول شاہزیب کو ہسپتال میں دل کا دورہ پڑا اور اس کے بعد ان کو ایسنشیا ہیلتھ سینٹ میری میڈیکل سینٹر منی سوٹا منتقل کردیا گیا۔

ہسپتال کی ترجمان نے اے پی کو بتایا کہ شاہزیب اس وقت بے ہوشی کی حالت میں ہیں اور وہ 28 فروری کے بعد ملک میں قانونی طور پر نہیں رہ سکتے کیونکہ ان کے ویزے کی معیاد ختم ہو جائے گی۔

اے پی کے مطابق ہسپتال کے حکام شاہزیب کے خاندان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اس فارم پر دستخط کریں جس کے تحت شاہزیب کو اسی حالت میں واپس پاکستان بھیجا جا سکے۔

تاہم شاہریز کا کہنا ہے: ’اگر ہم شاہزیب کو اس حالت میں پاکستان لے جانے کا مطلب ہے اس کو موت کے منہ دھکیلنا۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ تیسری دنیا کے ملک میں بدتر حالت میں مرے۔ بہتر ہے کہ اس کا علاج ادھر ہی ہو۔‘

شاہزیب باجوہ کو دل کا دورہ پڑنے سے دماغ پر اثر ہوا ہے۔ اگرچہ وہ آنکھیں کھولتے ہیں، اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑتے ہیں، کندھے اچکاتے ہیں، اور ٹانگوں کو بھی کچھ حرکت دے سکتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کرنے میں چند سال لگ سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک صحتیاب ہو سکتے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کوئی نئی چیز نہیں کہ امریکی ہسپتال غیر ملکی مریض پر آنے والے اخراجات بچانے کے لیے ان کو ملک بدر کردیتے ہیں۔

شاہریز باجوہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے اخراجات کا بل ساڑھے تین لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔

پچھلے سال امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے ایک سروے سے معلوم چلا تھا کہ امریکی ہسپتال غیر ملکیوں پر اخراجات بچانے کے لیے ان مریضوں کو واپس ان کے ملک بھجوا دیتے ہیں۔ ہسپتال عام طور پر ان مریضوں کے جہاز کے ٹکٹ خود دیتے ہیں۔ تاہم ہسپتال ایسا کرنے سے قبل نہ تو کسی فیڈرل ایجنسی اور نہ ہی عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔

تاہم اس کیس میں ایسنشیا ہسپتال کی ترجمان مورین نے کہا ہے کہ ہسپتال کے حکام وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر شاہزیب کو واپس پاکستان بھجوانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ای میل کا جواب دیتے ہوئے ہسپتال کی ترجمان مورین نے کہا: ’یہ ایک افسوسناک صورتِ حال ہے اور ہسپتال شاہزیب کے اہلخانہ کے ساتھ مل کر ان کو واپس پاکستان بھجوانے کا انتظام کر رہا ہے۔‘

شاہزیب کے بھائی کا کہنا ہے کہ ان کی میڈیکل انشورنس ایک لاکھ ڈالر کی ہے۔ لیکن ہسپتال نے یہ رقم کو نہیں لی اور خود اخراجات برداشت کر رہا ہے۔