برطانیہ کے کئی علاقے تیز ہواؤں کی لپیٹ میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانیہ کے بعض علاقوں میں محکمۂ موسمیات نے انتہائی درجے کی وارننگ جاری کی گئی ہے

برطانیہ کے بعض حصے سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی لپیٹ میں ہیں جبکہ برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کا کہنا ہے کہ یہ ’ایسی قدرتی آفت ہے جس کی مثال نہیں ملتی‘۔

اس سے قبل محکمۂ موسمیات نے موسمِ سرما کی پہلی انتہائی درجے کی وارننگ جاری کی تھی جس کا مطلب ہے کہ اس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق اور بڑے پیمانے پر تباہی کے امکانات ہیں۔

ان شدید ہواؤں کے نتیجے میں ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی ہے اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔

برکشائر، سرے اور سومرسیٹ کے علاقوں کے لیے سیلاب کی سولہ وارننگز جاری کی گئیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور شدید موسم کی وجہ سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے

ڈیفنس سٹاف کے نائب سربراہ میجر جنرل پیٹرک سینڈرز فوج کی جانب سے امدادی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے اس وعدے کو دہرایا کہ ’امدادی کاروائیوں کے لیے پیسہ رکاوٹ نہیں بنے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایگھم کے علاقے کے رہائشی شدید سیلاب کی وجہ سے پانی میں سے گزر رہے ہیں

انہوں نے سیلاب سے متاثر ہونے والے کاروبار اور گھروں کے مالکان کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ متاثرہ کاروباروں کو بزنس ریٹ سے سو فیصد چھوٹ ملے گی۔

تیز ہواؤں کے نتیےجے میں ویلز میں 50 ہزار گھر بجلی کے بغیر ہیں جن میں جنوبی ویلز میں 42 ہزار اور 10 ہزار شمالی ویلز میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ووسٹر کے علاقے میں سیلابی پانی چڑھ رہا ہے

جمہوریہ آئرلینڈ میں ڈھائی لاکھ گھر بغیر بجلی کے ہیں اور کورک، کیری کی کاؤنٹیاں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ جنوب مغربی انگلینڈ میں 8100 گھر بغیر بجلی کہ ہیں جبکہ مغربی مڈلینڈز کے علاقوں میں 10000 گھروں میں بجلی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرے کے علاقے میں پانی میں پھنسے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے

محکمۂ موسمیات نے لوگوں سے ان دنوں میں اپنے سفری منصوبوں میں تبدیلی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس کے علاوہ مغربی ساحلی علاقوں میں چلنے والی ریل بھی ان دنوں میں معطل رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کینٹ کے علاقے میں واقع ڈوور کے ساحل پر بڑی لہریں دیکھی جا سکتی ہیں

اس کے علاوہ M6 موٹروے جنکشن 20 اور 21 کے درمیان بند کر دی گئی ہے اور ڈرائیوروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ کن سڑکوں پر انہیں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں