پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جرمنی کے قیصر ولہیلم دوم اور برطانوی شہنشاہ جارج پنجم ایک دوسرے کے کزن تھے، یہ بات انھیں جنگ شروع کرنے سے باز نہیں رکھ سکی

پہلی جنگ عظیم کی ابتدا کو ایک صدی ہونے کو ہے اور برطانوی قوم یہ دن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ایسے موقعے پر ملک کے اہل علم حلقوں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ پہلی جنگ عظیم شروع کرنے میں کس ملک نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

حال ہی میں برطانوی وزیر تعلیم مائیکل گوو کی جانب سے سکولوں میں پہلی جنگ عظیم کی وجوہات اور اس کے نتائج کے بارے میں دی جانے تعلیم کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اس بحث میں مزید تیزی آئی ہے۔

یہاں دس تاریخ دانوں کی اس بارے میں رائے پیش کی جا رہی ہے کہ اس جنگ کا ذمہ دار کون تھا اور کیا اس سے بچنا ممکن تھا۔

سر میکس ہیسٹنگ، فوجی تاریخ دان

جرمنی

میرے خیال میں کسی ایک قوم پر جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی، لیکن جرمنی وہ واحد ملک تھا جو براعظم یورپ کو اس جنگ سے بچا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کیا تاریخ نے جرنیلوں کے کردار کو سمجھنے میں غلطی کی ہے؟

اگر جرمنی جولائی 1914 میں آسٹریا کو یہ کھلی چھٹی نہ دیتا کہ وہ سربیا پر چڑھائی کرے تو شاید جنگ سے بچا جا سکتا تھا۔

میں اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوں کہ سربیا بدمعاش ملک تھا اور اسے سزا دینا ضروری تھا۔

میں نہیں سمجھتا کہ روس 1914 میں جنگ کے لیے تیار تھا۔ روس کے رہنما جانتے تھے کہ وہ دوسال بعد زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔

یہ سوال بالکل الگ ہے کہ کیا برطانیہ کی اس جنگ میں شرکت لازمی تھی۔ میرے خیال میں برطانیہ کے پاس غیر جانبدار رہنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ یورپ میں جرمنی کی فتوحات کے بعد یہ قرینِ قیاس نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کو برداشت کرے۔ برطانیہ یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے تک بڑی عالمی طاقت تھا۔

سر رچرڈ جے ایون، پروفیسر کیمبرج یونیورسٹی

سربیا

پہلی جنگ عظیم شروع کرنے میں سربیا کا سب سے بڑا کردار تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بوسنیائی سرب شدت پسند گوریلو پرنسپ نے فرانز فرڈینینڈ کو قتل کیا

سربیا کی قوم پرستانہ اور توسیع پسندانہ پالیسی انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھی۔ سربیا ’بلیک ہینڈ‘ نامی دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ لیکن آسٹریا اور ہنگری بھی پہلی جنگ عظیم کی ابتدا کے ذمہ داروں میں سے ہیں جنہوں نے تختِ ہپیس برگ کے وارث فرانز فرڈینینڈ کی ہلاکت پر جس طرح کا ردعمل ظاہر کیا وہ جنگ عظیم کے اسباب میں سے ایک تھا۔

فرانس نے روس کے جارحانہ رویہ کی حوصلہ افزائی کی اور جرمنی نے آسٹریا کی حمایت کی۔ برطانیہ پہلے کی طرح بلقان کے اس بحران میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکا۔ برطانیہ 1910 تک دنیا کی بڑی بحری طاقت تھا۔

ڈاکٹر ہیتھر جونز، ایسوسی ایٹ پروفیسر لندن سکول آف اکنامکس

آسٹریا، ہنگری، جرمنی اور روس

میرے خیال میں آسٹریا، ہنگری ، جرمنی اور روس کے چند سخت گیر سیاست دان اور فوج کے پالیسی ساز پہلی جنگ عظیم کے ذمہ دار تھے۔

1914 سے پہلے شاذ و نادر ہی کوئی شاہی قتل کسی جنگ کا سبب بنا تھا۔ آسٹریا اور ہنگری کے سخت گیر فوجیوں نے سراییوو میں ہنگری کے شاہی خاندان کے افراد کے بوسنیائی سربوں کے ہاتھوں قتل کو سربیا پر قبضے کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہا۔

سربیا اس وقت انتہائی عدم استحکام کا شکار تھا، لیکن وہ اس کے باوجود اپنی سرحدوں کو وسیع کرنے کی بھی کوشش کر رہا تھا۔ وہ 1912 کی جنگ میں تھک چکا تھا اور 1914 میں مزید جنگ نہیں چاہتا تھا۔

یہ جنگ پورے یورپ میں اس وقت پھیلنے لگی جب جرمنی نے آسٹریا اور ہنگری کی سربیا پر حملہ آور ہونے کی حوصلہ افزائی کی لیکن جب روس سربیا کی مدد کرنے لگا تو جرمنی نے بلغاریہ کے راستے روس اور اس کے اتحادی فرانس پر یلغار کر دی۔ اس صورتِ حال نے برطانیہ کو بھی اس جنگ میں گھسیٹ لیا۔

جان روہل، پروفیسر آف ہسٹری، یونیورسٹی آف سسیکس

آسٹریا، ہنگری اور جرمنی

پہلی جنگ عظیم کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھی اور نہ سفارت کاری کی ناکامی۔ یہ جنگ جرمنی، آسٹریا اور ہنگری کی سازش کا نتیجہ تھی۔ ان ملکوں نے شاید سوچ رکھا تھا کہ برطانیہ جنگ سے باہر رہے گا۔

جرمنی کا حکمران قیصر ولہیلم دوم دنیا میں ’جرمن خدا‘ کا غلبہ دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ وہ اپنے جارحانہ مزاج اور آمرانہ رویہ کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔

جرمن حکمران نے 20 کے قریب لوگوں کے ایک گروہ کو اپنے گرد جمع کر رکھا تھا اور انہی کے مشورے سے انہوں نے حالات کو سازگار سمجھتے ہوئے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

جیراڈ ہرشفیلڈ، پروفیسر آف ہسٹری، یونیورسٹی آف سٹٹگارڈ

آسٹریا، ہنگری، جرمنی، روس، فرانس ، برطانیہ اور سربیا

جنگ شروع ہونے پہلے جرمنی کا قدامت پسند اشرافیہ اس بات کا قائل ہو چکا تھا کہ دوسرے یورپی ممالک کی طرح نوآبادیاں قائم کرنے اور جرمنی کو عظیم سلطنت بنانے کے لیے یورپی جنگ ضروری ہے۔

میرے خیال میں برطانیہ اس جنگ کو روکنے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

سراییوو میں ہونے والے قتل کے ایک واقعے پر جنگ کی ابتدا غلط سوچ اور غلط فیصلوں کا نتیجہ تھی۔

ڈاکٹر انیکا مومبوئر، دی اوپن یونیورسٹی

آسٹریا، ہنگری اور جرمنی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہنڈن برگ (مرکز) نے جرمنی کی فوج کو متحرک کیا

میرے خیال میں پہلی جنگ عظیم کسی حادثے کانتیجہ نہیں تھی، اور میرے خیال میں اس جنگ سے بچا جا سکتا تھا۔ آسٹریا کی طرف سے 28 جون 1914 میں فرانز فرڈینینڈ کے قتل کی پاداش میں سربیا پر چڑھائی کا فیصلہ ہی اس جنگ کا باعث تھا۔

آسٹریا اور ہنگری کی پوزیشن بلقان کے خطے میں کمزور ہو رہی تھی اور انھوں نے اسی بنا پر جنگ کا راستہ اختیار کیا۔

لیکن سربیا کے خلاف جنگ کے لیے آسٹریا اور ہنگری کو جرمنی کی حمایت کی ضرورت تھی اور پھر جرمنی کی جانب آسٹریا کی غیر مشروط حمایت ہی اس جنگ کی وجہ بنی۔ آسٹریا اور جرمنی دونوں جانتے تھے کہ سربیا پر حملے کی صورت میں روس سربیا کی حمایت کرے گا اور پھر یہ جنگ مقامی جنگ نہیں رہے گی بلکہ یورپ گیر جنگ میں بدل جائےگی۔ لیکن ان ملکوں نے یہ خطرہ مول لیا اور جنگ شروع ہو گئی۔

شان میکمیکن، پروفیسر کے او سی یونیورسٹی استنبول

آسٹریا، ہنگری، جرمنی، روس، فرانس، برطانیہ اور سربیا

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ سوالوں کے آسان جواب ڈھونڈتا ہے اور اسی وجہ سے سب جرمنی کو اس ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جرمنی نے آسٹریا اور ہنگری کی غیر مشروط حمایت اعلان کر کے اس جنگ کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن اگر فرانز فرڈینینڈ کو سراییوو میں قتل نہ کیا جاتا تو پھر آسٹریا اور جرمنی کے لیے سربیا پر حملے کا جواز نہ ہوتا۔

جرمنی اور آسٹریا نے اس جنگ کو ’مقامی‘ رکھنے کی کوشش کی لیکن روس نے سربیا کی حمایت میں آ کر جنگ کو یورپی بنا دیا۔ برطانیہ کی اس جنگ میں شمولیت فرانس اور روس کی خواہش تو ہو سکتی تھی لیکن جرمنی یہ نہیں چاہتا تھا۔ لہٰذا جرمنی، روس، فرانس اور برطانیہ بھی اس جنگ کے ذمہ دار ہیں۔

پروفیسر گیری شیفلڈ، پروفیسر آف وار سٹڈی، یونیورسٹی آف وولورہمٹن

آسٹریا، ہنگری اور جرمنی

آسٹریا، ہنگری اور جرمنی نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے اس جنگ کا فیصلہ کیا کہ روس سربیا کی مدد کو آئے گا۔ آسٹریا اور ہنگری نے فرانز فرڈینینڈ کے قتل کا بہانہ بنا کر اپنے علاقائی حریف سربیا کو تباہ کرنا چاہا۔

جرمنی اور آسٹریا کے رہنماؤں نے مجرمانہ خطرہ مول لیا جس نے پورے براعظم کو جنگ میں دھکیل دیا۔

ڈاکٹر کیٹریونا پینل، لیکچرار یونیورسٹی آف ایگزٹر

آسٹریا، ہنگری اور جرمنی

میرے خیال میں پہلی جنگ عظیم شروع کرنے کا الزام جرمنی اور آسٹریا کے پالیسی سازوں پر ہی دھرا جا سکتا ہے، جنہوں نے ایک مقامی جھگڑے کو براعظمی جنگ میں تبدیل میں اہم کردار ادا کیا۔

جرمنی نے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر برطانیہ اور فرانس کی طرح سلطنت قائم کرنے کی کوشش کی۔

آسٹریا اور ہنگری نے 23 جولائی 1914 کو سربیا کو الٹی میٹیم دیا، جو دراصل جنگ کا اعلان تھا۔ اس طرح 28 جولائی کو پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا۔

ڈیوڈ سٹیونسن ، پروفیسر آف انٹرنیشنل ہسٹری، لندن سکول آف اکنامکس

جرمنی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آسٹرین بادشاہ فرانز جوزف فرڈینینڈ اور قیصر ولیہیم اتحادی تھے

جرمن حکومت پہلی جنگ عظیم کی ذمہ دار تھی۔ جرمنی نے بلقان کی جنگ کو ممکن بنایا۔ انہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ سربیا پر آسٹریا اور ہنگری کے حملے سے یہ بڑی جنگ بن سکتی ہے، اس کی حوصلہ افزائی کی۔

جرمنی نے نہ صرف آسٹریا کی غیر مشرو ط حمایت کا اعلان کیا بلکہ اس نے روس اور فرانس کو بھی الٹی میٹیم دینے شروع کر دیے تھے۔

جرمنی نے عالمی معاہدوں کی دھجیاں بکھیر دیں، اور یہ جانتے ہوئے کہ اگر بیلجیئم پر حملہ ہوا تو برطانیہ بھی اس جنگ میں شریک ہو جائےگا، اس نے لگسمبرگ اور بیلجیئم پر یلغار کر دی۔