ہزاروں خواہشیں اور مالی وسائل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیخ حماد الثانی نے ورثے میں ایک ایسا ملک چھوڑا ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک طاقت کے طور پر ابھرنے کے عزائم رکھتا تھا

شیخ تمیم بن حماد الثانی جب جون میں مشرق وسطیٰ کے ملک قطر کے امیر بنے تو چند مبصر ان کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

قطر کے 33 سالہ امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈرسٹ سے گریجویشن کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قدامت پسند اور محتاط طبیعت کے مالک ہیں۔

شیخ تمیم بن حماد الثانی کو ورثے میں ایک ایسا ملک ملا جو نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک طاقت کے طور پر ابھرنے کے عزائم رکھتا تھا۔

قطر کی جانب سے تیونس، لیبیا، مصر اور شام میں اسلامی تحریکوں کی حمایت کی وجہ سے مغربی اتحادیوں اور خلیج کے ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں تناؤ آ گیا تھا۔

قطر جیسے قدامت پسند ملک میں مغربی ثقافت اور تعلیمی اداروں میں مغربی تعلیم کے بڑھتے ہوئے اثر پر تنقید کر رہے تھے، تاہم نئے امیر اس لیے خوش قسمت رہے کہ ان عزائم کو پورا کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ریاستی خزانے بھرے رہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق قطر میں جی ڈی پی کی شرح سب سے زیادہ اور بے روزگاری کی شرح سب سے کم ہے۔

توانائی کی دنیا میں قطر کے پاس تیل اور بنیادی ڈھانچے کے وسیح ذخائر ہیں جسے وہ بین الاقوامی مارکیٹ کے حوالے کر سکتا ہے۔

قطر کے سابق امیر شیخ حماد کی اہلیہ شیخہ موضع قطر فاؤنڈیش کی سربراہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قطر کے سابق امیر شیخ حماد کی اہلیہ شیخہ موضع قطر فاؤنڈیش کی سربراہ ہیں

سنہ 2012 کے اختتام تک قطر کے مالیاتی فنڈ ’دی قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی‘ کے پاس 115 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے تھے۔

قطر نے پوری دنیا سے بینکوں، یورپ سے فٹبال کلب اور لندن سے نہایت قیمتی جائیدادیں اکٹھی کی ہیں۔

دوسری طرف قطر کے پاس ایسے مسلح باغی گروہ ہیں جو لیبیا اور شام کے حکمرانوں کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔

اس گروہ نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے کی بے کار کوشش کی۔

قطر نے اپنے قومی فوڈ سکیورٹی پروگرام کے لیے بھی اربوں ڈالر مختص کیے ہیں جس کا مقصد ملک میں موجود پانی اور زمینی ذخائر کو وسیع کرنا ہے۔

قطر میں سنہ 2022 میں فٹبال کا عالمی کپ منعقد ہو گا۔ اس مقصد کے لیے قطر میں 12 ایئر کنڈیشنڈ سٹیڈیم، ٹرانسپورٹ کا وسیع نظام، یہاں تک کے ایک پورا نیا شہر بسائے جانے کا منصوبہ ہے۔ ماہرین اس سارے منصوبے کی مالیت 200 ارب ڈالر بتاتے ہیں۔

اس کے علاوہ قطری ثقافت، فنون اور تعلیم پر بہت خرچ کرنے والے ہیں۔

شیخہ موضع جو سابق امیر شیخ حماد کی اہلیہ ہیں اور ان کی بیٹی میاسہ ایک ’نرم ریاست‘ کی سربراہ ہیں جس کا مقصد قطر کے عالمی چہرے کو بہتر کرنا ہے۔

شیخہ قطر فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں جس نے مغربی درس گاہوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنے ڈیرے ڈالیں۔

یہ بغیر منافع کے کام کرنے والی تنظیم سنہ 1995 میں بنائی گئی تھی اور اس کا مقصد ’قطر کے کاربن کی معیشت سے عالمی علم کی معیشت کے سفر میں معاونت کے کردار کی ترویج‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوحہ میں میوزم آف اسلامک آرٹ، جو 2008 میں کھلا تھا اور اس میں دنیا کے بہترین اسلامی فن پارے رکھے گئے ہیں

شیخہ موضع اور ان کی بیٹی نے دوحہ میں میوزم آف اسلامک آرٹ کے قیام کی نگرانی بھی کی جو سنہ 2008 میں کھلا تھا اور اس اسلامی فنون کے بہترین نوادرات رکھے گئے ہیں۔

اس سے لگتا ہے کہ شاید ان حکمرانوں کو احساس ہوا ہو گا کہ ان کے منصوبوں کا پیسہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ تاہم جب امیر نے اپنے بیٹے کے حق میں تخت سے دستبراداری کا اعلان کیا تو سرد مہری کا دور شروع ہو گیا۔

ستمبر میں قطر فاؤنڈیشن نے اپنے انگریزی اور عربی کی وسیع پیمانے کی ریڈیو سروس کے منصوبوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا۔

چار مہینے بعد دوحہ فلم انسٹی ٹیوٹ نے نصف درجن کے قریب ملازمین کو فارغ کر دیا اور دوحہ فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب بھی ملتوی کر دی جو اس سال مارچ میں منعقد کی جانی تھی۔

ابتدائی طور پر یہ کہنے کے بعد کہ سنہ 2023 تک قطر اپنی خوراک کے 70 فیصد وسائل خود پیدا کرے گا، اب یہ کہا جا رہا ہے کہ پیداوار 40 فیصد ہو گی۔

اس کے پیچھے کارفرما شخص فہد العطیہ نے بھی اس سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے۔

خلیج کے توانائی کے تجزیہ کار جم کرین کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام غلط ہے۔

ان کے مطابق ’اس پروگرام کے تحت قطر کی زراعت میں سرمایہ کاری کبھی بھی سمجھ میں نہیں آئی۔‘

کرین کا کہنا ہے کہ موجود طریقۂ کار سے بہت زیادہ کاربن کا اخراج ہوتا ہے جس کے تحت گیس کو جلا کر سمندر کے پانی کا نمک نکالا جاتا ہے جس سے زراعت کے لیے آبپاشی کا پانی پیدا ہوتا ہے جو صحرا میں آبپاشی کے لیے استعمال ہو گا۔

تاہم اس منصوبے پر کام کرنے والے جوناتھن سمتھ کا کہنا ہے کہ ان کا ہمیشہ ہی سے ارادہ تھا کہ اس منصوبے کے لیے توانائی بجائے گیس کے دوسرے ذرائع سے حاصل کی جائے۔‘

قطر کے موجود امیر کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ قطر ورلڈ کپ منعقد کروانے کی ہامی بھر چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی کروڑوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر اخراجات کی تکمیل کے لیے بھی یقین دہانی کروا چکا ہے مگر حکومت کی آمد جہاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے وہیں اخراجات ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

قطر اب 12 سٹیڈیم بنانے کی باتیں نہیں کر رہا، بلکہ سنہ 2022 کے کھیلوں کی مقامی انتظامیہ کی کمیٹی کا اب یہ کہنا ہے کہ وہ آٹھ سٹیڈیم ترجیحی بنیادوں پر تیار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں