’عورتیں ڈاکٹر سے اکیلے نہ ملیں‘

سعودی عرب کے ایک سینیئر مذہبی رہنما نے محرم مرد کی غیر موجودگی میں ڈاکٹر سے ملنے والی خواتین کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسلام میں منع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنما کا یہ بیان گذشتہ ہفتے یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی موت کے بعد آیا ہے۔ طبی عملے کو یونیورسٹی حکام نے اپنی حدود میں اس وجہ سے داخل نہیں ہونے دیا تھا کیونکہ لڑکی کے ساتھ اس کا کوئی مرد سرپرست یا رشتہ دار موجود نہیں تھا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں مرد و زن کے اختلاط کے بارے میں سخت قوانین ہیں۔

روزنامہ الحیات کے مطابق سینیئر علما کونسل سے منسلک شیخ قیس المبارک نے کہا کہ ’عورتیں محرم کے بغیر ڈاکٹر کو ملنے کے معاملے میں بد احتیاطی کر رہی ہیں۔ اس بات کی اجازت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ طبی معائنے میں یہ بات شامل ہو سکتی ہے کہ عورت کو جسم کے مخلتف حصے ڈاکٹر کو دکھانا پڑیں۔ اس کی اجازت نہیں، ماسوائے اس کے کہ آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا پڑ جائے۔‘

شیخ قیس المبارک نے مزید کہا کہ عورتوں کے لیے ’ضروری ہے کہ وہ مرد ڈاکٹروں کے پاس صرف اس وقت جائیں جب خاتون ڈاکٹر دستیاب نہیں اور اگر ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو یہ ضروری ہے کہ مرد ڈاکٹر اور مریضہ اکیلے نہ ہوں اور ڈاکٹر جسم کے صرف اس حصے کو دیکھے جہاں درد ہو رہا ہے۔‘

سعودی عرب میں ’کونسل آف سینیئر علما‘ مذہبی معاملات میں سب سے زیادہ مقتدر اتھارٹی ہے۔

اخبار نے مزید بتایا ہے کہ سعودی عرب کی بدنام مذہبی پولیس ملک کے مشرقی صوبے میں کئی ہسپتالوں میں مردوں کے بغیر آنے والی خواتین پر سختی کر رہی ہے۔ اس پولیس کے ارکان ایک ہیلتھ سینٹر میں داخل ہو گئے اور وہاں پر موجود عورتوں کو ایک مرد سے ملنے سے روک دیا جو سینٹر میں خوراک کے ماہر کا کام کرتا ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2005 میں مکّہ میں پندرہ لڑکیاں اس وقت جل کے مرگئی تھیں جب ان کے سکول میں آگ لگ گئی تھی اور مذہبی پولیس نے ان کو وہاں سے اس وجہ سے نہیں نکلنے دیا تھا کہ ان کے لباس اسلامی شعار کے مطابق نہ تھے۔ اس واقع کے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ شہری دفاع کے کارکنوں کو سکول میں داخل ہونے سے محض اس لیے روک دیا گیا تھا کہ شعلوں سے بچنے کی کوشش میں بارہ سے چودہ سال کی لڑکیاں اپنے عبایہ اوڑھے بغیر باہر نکل آئی تھیں۔

اسی بارے میں