کینیا: محفوظ سیکس کے لیے کنڈوم ڈلیوری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کینیا میں ایک قومی سروے کے مطابق اس وقت بھی بارہ لاکھ افراد ایڈز سے متاثر ہیں

کینیا میں ایک کاروباری خاتون نے ایڈز سے بچاؤ کے لیے لوگوں کو ان کے گھروں میں کنڈوم مہیا کرنے کا آغاز کیا ہے۔

ان کے مطابق کئی لوگ کنڈوم خریدتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔

فیتھ نیدوا نامی خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ایسا کرنے کا خیال اس لیے آیا کیونکہ ان کے چند دوست ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے ’ان میں سے کئی لوگ ایڈز کی وجہ سے مر گئے کیونکہ انہیں کنڈوم خریدتے ہوئے شرم آتی تھی۔‘

عام طور پر نیروبی کی بھاری ٹریفک اور تنگ گلیوں کے باعث کنڈوم موٹر سائیکل پر لوگوں کے گھروں تک پہنچائے جاتے تھے لیکن ویلینٹائن ڈے کے موقع پر بعض گاہکوں کے لیے سرخ پھولوں سے سجی لیموزین گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔

نیدوا کہتی ہیں مردوں اور خواتین سمیت ان کے اس وقت 4000 گاہک ہیں جبکہ انہوں نے یہ کاروبار دو ہفتے قبل ہی شروع کیا ہے۔ تاہم جمعے کو انہوں نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ہفتے کا اختتام ان کے 15 ملازمین کے لیے مصروف ترین وقت ہوتا ہے۔

تین کنڈوم کا پیکٹ تین ڈالر میں فروخت ہوتا ہے اور اس میں نیروبوبی میں کسی بھی جگہ ڈلیوری کے اخراجات شامل ہیں۔ یہ سہولت تین دیگر قصبوں میں بھی میسّر ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیدوا کا کہنا تھا ’یہ وقت ہے کہ خوفزدہ ہونے کے رواج کو شکست دی جائے۔ کیونکہ اگر ہم محفوظ سیکس (جنسی عمل) اپنائیں گے تو ہم لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ ‘

نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ کینیا میں عوامی بیت الخلاؤں، ہسپتالوں اور صحت مراکز میں مفت کنڈومز مہیا ہوتے ہیں لیکن یہ اکثر ختم ہو جاتے ہیں۔

Image caption ویلینٹائن ڈے کے موقع پر بعض گاہکوں کے لیے سرخ پھولوں سے سجی لیموزین گاڑیوں کا استعمال کیا گیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیا میں اب بھی سیکس ایک ممنوع موضوعِ گفتگو ہے اور کئی لوگ سرِعام کنڈوم خریدتے ہوئے جھجھکتے ہیں کہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ وہ ناجائز سیکس کرنے والا ہے۔

جمعرات کو ہی ایڈز سے بچاؤ کے قومی ادارے نے محفوظ جنسی عمل کے فروغ کے لیے نیروبی میں میں دس لاکھ سے زیاذ کنڈوم تقسیم کیے تھے۔

کینیا میں ایک قومی سروے کے مطابق اس وقت بھی بارہ لاکھ افراد ایڈز سے متاثر ہیں۔

تاہم مزید افراد کے اس بیماری میں مبتلا ہونے کی شرح میں پچھلے پانچ برسوں میں کمی آئی ہے۔

اسی بارے میں