یورپ کا اپنا مواصلاتی نیٹ ورک بنایا جائے: میرکل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مرکل نے سنیچر کو کہا کہ وہ بدھ کو فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھائیں گی

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یورپ کے مواصلاتی نیٹ ورک کو مذید مضبوط بنانے کے لیے یورپ کا اپنا مواصلاتی نیٹ ورک تیار کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

یہ مجوزہ مواصلاتی نیٹ ورک اور دوسرا ڈیٹا خود بخود امریکہ گزرنے سے بچے گا۔

مرکل نے سنیچر کو کہا کہ وہ بدھ کو فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھائیں گی۔

میرکل نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ فیس بک اور گوگل جیسی کمپنیاں ایسے ممالک میں واقع ہو سکتی ہیں جہاں ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے بہت سخت قوانین نہیں ہیں جب کہ ان کا کاروبار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں اس بارے میں سخت قوانین ہیں۔

انھوں نے کہا ’سب سے پہلے ہم یورپ کی سروس فراہم کرنے والے کمپنیوں کے بارے میں بات کریں گے جو ہمارے شہریوں کو تحفظ دے سکیں تاکہ کسی کو بحر اوقیانوس کے اس پار ای میل اور دوسری معلومات نہ بھیجنی پڑیں بلکہ یورپ میں ہی مواصلاتی نیٹ ورک بنایا جا سکے‘۔

جرمن چانسلر نے کہا ’اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یورپ کو ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

خبر رساں ایجنسی روئیٹرز نے ایک فرانسیسی افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ فرانس کی حکومت جرمنی کے اس تجویز کو آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی میں شریک ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی ایجنسی کے نگرانی کے پروگرام کی معلومات سامنے آنے کے بعد سے یورپ کے متعد ملک فکر مند ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہل کار ایڈورڈ سنوڈن نے جو معلومات افشا کیں ان کی بنیاد پر کہا گیا کہ امریکی جاسوس امریکہ کے اتحادی ممالک کے رہنماؤں جن میں انگیلا میرکل بھی شامل تھیں کے فون کی بھی نگرانی کر رہے تھے۔

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی معلومات سے پتا چلا کہ امریکی حکومت این ایس اے اور سی آئی اے کے ذریعے بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں حکومتوں، کاروباروں اور عام شہریوں کی جاسوسی کرتی ہے۔

اس عمل کا نشانہ بننے والوں میں چین اور روس کے علاوہ یورپی یونین اور برازیل جیسے اتحادی ممالک بھی شامل ہیں۔

ان انکشافات کے ردِ عمل میں این ایس اے کو اس بات کا اعتراف کرنا پڑا کہ وہ لاکھوں امریکی شہریوں کی ای میل اور فون ریکارڈ کا جائزہ لیتی ہے۔

این ایس اے کے خفیہ دستاویزات کے سامنے آنے سے معلوم ہوا کہ امریکی اور برطانوی نگرانی کے پروگرام انٹرنیٹ سے بڑی مقدار میں اکھٹی کرتے رہے۔

اسی بارے میں