مذاکرات پھر بےنتیجہ، ابراہیمی کی شامی عوام سے معافی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فریقین کو سوچنا چاہیے کہ وہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کہ نہیں: ابراہیمی

شام کے تنازع کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندۂ خصوصی الاخضر ابراہیمی نے سوئٹزرلینڈ میں منعقد امن مذاکرات کی ناکام پر شامی عوام سے معذرت کی ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد اور شامی باغیوں کے نمائندوں کے درمیان جنیوا میں جاری مذاکرات کا دوسرے دور سنیچر کو مکمل ہو گیا اور الاخضر ابراہیمی کی ’ڈیڈ لاک‘ کے خاتمے کے لیے فریقین سے بات چیت کی آخری کوشش بھی ناکام رہی۔

شام:’انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں جاری‘

مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بات چیت کے بےنتیجہ رہنے کی بنیادی وجہ شامی حکومت کا عبوری حکومت کے بارے میں بات کرنے سے انکار تھا۔

سنیچر کو ہونے والی بات چیت صرف 27 منٹ جاری رہی جس کے بعد الاخضر ابراہیمی نے باہر آ کر کہا کہ وہ شامی عوام سے معذرت خواہ ہیں اور بات چیت نتیجہ خیز نہیں رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فریقین مذاکرات کے اگلے دور کے ایجنڈے پر متفق ہوئے ہیں لیکن شامی حکومت نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے کہ تیسرے دور میں مذاکرات کا پہلے دن تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں اور دوسرے دن عبوری حکومت پر بات کی جائے۔

نمائندہ خصوصی نے کہا کہ حکومت کے اس موقف سے ’شامی اپوزیشن کے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ شامی حکومت عبوری حکومت کے موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔‘

شامی اپوزیشن ملک میں ایسی عبوری حکومت چاہتی ہے جس میں شامی صدر بشار الاسد اور ان کے حامی موجود نہ ہوں۔

اس کے برعکس شامی حکومت اس خیال سے متفق نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور بات چیت کا موضوع ’دہشت گردوں‘ کے خلاف جنگ ہونا چاہیے۔

الاخضر ابراہیمی کا کہنا تھا کہ فریقین کو بات چیت کے لیے دوبارہ اپنے مرکز پر واپس جانا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ اس عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے کوئی نظام الاوقات طے نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل شام کے معاملے پر سوئٹزر لینڈ میں جاری امن مذاکرات فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔

شامی حزبِ اختلاف کے ترجمان لوائے صافی نے کہا تھا کہ بات چیت ’ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں سے آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔‘ جبکہ شام کے نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد نے شامی باغیوں پر الزام لگایا کہ وہ ایک ’غیر حقیقی ایجنڈا‘ پیش کر رہے ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

کیلیفورنیا میں اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد انھوں نے کہا کہ’ہم اسد حکومت پر مزید دباؤ کے لیے فوری اقدامات کر سکتے ہیں اور ہم سفارتی حل نکالنے کے لیے فریقین کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔‘

تاہم صدر اوباما نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے اقدامات اٹھائیں گے۔

شام میں مارچ 2011 میں حکومت مخالف بغاوت کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 95 لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

اسی بارے میں