پائلٹ نے سوئٹزرلینڈ میں پناہ لینے کے لیے طیارہ اغوا کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنیوا کے ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے

سوئٹزرلینڈ کی پولیس کے مطابق ایتھیوپیا ایئرلائنز کے ادیس ابابا سے روم جانے والے طیارے کو ایک معاون پائلٹ نے اغوا کرکے جنیوا میں اتار دیا ہے۔

جہاز کا پائلٹ جب ٹائلٹ میں گیا تو معاون پائلٹ نے اپنے آپ کو کاک پٹ میں بند کر کے جہاز کو اغوا کر لیا۔

اغوا کار غیر مسلح تھا اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس نے سوئٹرز لینڈ میں پناہ کی درخواست کی ہے۔

ایتھیوپیا ایئرلائنزنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاز پر سوار 202 مسافر اور عملہ محفوظ ہیں۔

جنیوا کے ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

جنیوا کی پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سنہ 1983 میں ایتھیوپیا میں پیدا ہونے والے ایک شحض نے اپنے ملک میں سزا کے خوف سے پناہ کی درخواست کی ہے۔

معاون پائلٹ نے اپنے آپ کو کاک پٹ میں بند کرنے کے بعد جنیوا میں ایندھن ڈلوانے کا بہانہ کر کے وہاں طیارہ اتار دیا۔ اس کے بعد وہ کاک پٹ کی کھڑکی سے رسی کے ذریعے نیچے اترا اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شخص غیر مسلح تھا اور ان سے مسافروں اور جہاز کے عملے کو کسی وقت بھی خطرہ نہیں تھا اور اس دوران جہاز کے اندر حالات پرسکون رہے۔

حکام کے مطابق معاون پائلٹ نے جہاز کے اغوا کے بارے میں خود ہی حکام کو آگاہ کر دیا تھا، تاہم مسافروں کو جہاز کے اغوا کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔

جنیوا کے ایک پراسیکیوٹر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ معاون پائلٹ پر صرف لوگوں کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا جا سکتا ہے، اور اگر یہ ثابت ہو گیا تو انھیں 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جنیوا کے ایئرپورٹ کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ ڈیلن نے پریس کانفرنس کے دوران کہ طیارے کے اغوا کا عمل اٹلی کے فضائی حدود میں شروع ہوا جہاں شاید اٹلی کے جنگی طیارے اغوا کیے گئے جہاز کے ساتھ پرواز کرنے لگے۔

جنیوا کے ایئرپورٹ پر آخری دفعہ سنہ 1985 میں ائیر افریق ایئرلانز کا طیارہ اغوا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں