’لڑکوں والے کام، لڑکیوں والی باتیں‘

فرانس میں والدین نے ہر ماہ ایک دن کے لیے اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا کر حکومت کی اس پالیسی کے خلاف احتجاج میں شامل کرانا شروع کر دیا ہے جس میں پرائمری سکولوں کے بچوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ’وہ پیدائشی طور پر نہ لڑکا ہیں نہ لڑکی، بلکہ ان کی کوئی جنس نہیں ہے۔‘

احتجاجی مہم کی رہنما سٹراسبرگ کی رہائشی فریدہ بلگال نامی خاتون ہیں جنہوں نے مخلتف شہروں کے لیے یہ احتجاجی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اس کے تحت دس فروری سے شروع ہونے والی اس مہم میں ہر روز ایک نئے شہر میں مظاہرہ کیا جائے گا۔ احتجاج کے لیے فریدہ زیادہ تر ٹیکسٹ میسج استعمال کرتی ہیں جس میں والدین سے کہا جاتا ہے کہ وہ فرانسیسی حکومت کے اے بی سی ڈی آف ایکوالٹی (جنسی برابری کی الف ب پ) نامی پروگرام کے خلاف ’مزاحمت‘ کے لیے آواز بلند کریں۔

یاد رہے کہ خواتین اور تعلیم کی وزارتوں نے اس مشترکہ پروگرام کا آغاز ستمبرسنہ 2013 کیا تھا۔ یہ پروگرم پہلے تجرباتی بنیادوں پر فرانس کے 200 سکولوں میں چلایا گیا، جس کے بعد فیصلہ ہوا کہ اسے جنوری سنہ 2014 سے ملک کے اکثر پرائمری سکولوں تک پھیلا دیا جائے گا۔

اس ہفتے سٹراسبرگ اور پیرس کے علاقوں کے تقریباّ ایک سو سکولوں سے والدین نے اپنے بچے اٹھانا شروع کر دیے اور سکولوں نے بتایا کہ ان کے تقریباّ دو تہائی بچے سکول نہیں آ رہے۔ اس پر وزیر تعلیم وِنسنٹ پیلون نے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ وزیر نے جنسی برابری کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد اس زیادہ کچھ نہیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان برابری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا: ’میں فرانس میں تمام والدین کو حلفیہ یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں جو سکولوں میں تقسیم اور نفرت کے بیج بونا چاہتے ہیں۔ ہم جنسی برابری کا کوئی بڑا فلسفہ (جینڈر تھیوری) لاگُو کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔‘

وزیر تعلیم نے خبردار کیا کہ دائیں بازو کے انتہا پسند لوگ والدین کو خوفزدہ اور اساتذہ کو اذیت پہنچا رہے ہیں: ’انتہا پسندوں کے اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں کہ سکولوں میں چھوٹے لڑکوں کو یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ وہ لڑکیاں بن جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس میں کوئی سچائی نہیں کہ چھوٹے لڑکوں کو یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ وہ لڑکیاں بن جائیں: وزیر تعلیم

حکومت کے بقول مذکورہ پروگرام کا نصب العین یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں اس سوچ کی بیخ کنی کی جائے کہ لڑکیاں اور لڑکے مختلف ہوتے ہیں اور معاشرے میں ان کے اپنے اپنے مختص کردار ہیں۔ پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ جب آنے والے برسوں میں ان لڑکے لڑکیوں کو انتخاب کرنا پڑے تو وہ درست فیصلے کر سکیں، مثلاّ ہائی سکول یا یونیورسٹی میں کون سے مضامین پڑھنے ہیں۔

حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ غیر مساویانہ سوچ ختم کرنے سے ملک میں مردوں اور خواتین کی تنخواہوں میں 25 فیصد کا جو فرق پایا جاتا ہے اسے کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

مذکورہ پروگرام میں اساتذہ کو تفصیل کے ساتھ ہدایات مہیا کی جاتی ہیں کہ وہ کس طرح چھوٹے بچوں کو سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ ’لڑکوں والے کام‘ یا ’لڑکیوں والی باتیں‘ کیا ہوتی ہیں۔ مثلاّ پریوں کی کہانیوں کے کردار ادا کرتے وقت لڑکوں کو ترغیب دی جائے کہ لِٹل رائیڈنگ ہُڈ کا کردار لیں اور لڑکیاں اس کہانی کے بھیڑیے کا کردار ادا کریں۔

حکومت نے پروگرام میں اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ شہزادیوں اور پریوں کی اکثر کہانیوں ( بیوٹی اینڈ دا بِیسٹ، سنو وائٹ اور سنڈریلا وغیرہ) میں ہیروئن کے تمام کردار بےعملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے چھوٹی بچیاں اس جانب راغب ہو سکتی ہیں کہ وہ اپنی تربیت اور مستقبل کا خیال کرنے کی بجائے کسی شہزادہ گلفام کا انتظار کریں۔

فریدہ بلگال سنہ 1980 میں شہری حقوق کی ایک بڑی علم بردار رہی ہیں، لیکن وہ پرائمری سکولوں میں نئی صنفی تعلیم کے منصوبے کی سخت مخالف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت کے اس منصوبے کا اصل مقصد ’جنسی برابری کے فلسفے کو تعلیم کی ہر سطح پر عام کردینا ہے، پرائمری جماعتوں سے لے کر سکول کے آخری امتحانوں تک۔

جس وقت بچے ریاضی کے بنیادی اصول سمجھنے میں مشکلات کا شکار ہیں، اور حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ ہم جنسیت اور اس قسم کے دوسرے سٹیریو ٹائپس کو کیسے ختم کیا جائے۔‘

اطلاعات کے مطابق فریدہ بلگال کی احتجاجی مہم فرانس کے مسلمان گھرانوں میں سب سے زیادہ موثر ثابت ہو رہی ہے اور پیرس کے ان علاقوں میں جہاں تارکیں وطن لوگوں کی اکثریت ہے وہاں سکولوں سے غیر حاضر رہنے والے بچوں کی تعداد قدرے زیادہ ہے۔

دوسری جانب وزیر تعلیم پرائمری سکولوں کے اساتذہ کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ حکومتی منصوبے کی افادیت کیا ہے۔ اپنے ایک خط میں انھوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ والدین کو بتائیں کہ یہ پروگرام اصل میں ہے کیا اور نصاب میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں۔

اسی بارے میں