کینیا: مچھلی کے لیے سیکس ضروری نہیں

Image caption تپتی دھوپ میں مرد مچھیروں سے سودا بازی کرنے والی ان خواتین کوامید ہے کہ وہ مقامی بازار میں یہ مچھلی بیچ کر تھوڑا بہت منافع بنا لیں گیں

مغربی کینیا میں جھیل وکٹوریہ کے ساحل پر کاروبار اپنے زور و شور پر ہے اور مرد مچھیروں کو صبح سویرے جھیل سے پکڑی ہوئی مچھلیوں سے بھری لکڑی کی کشتیوں کو ساحل سے لگانے کی جگہ نہیں مل رہی۔

تیلیپیا، پرچ اور کیٹ فِش سے بھری ان کشتیوں پر کھڑے مچھیرے تپتی دھوپ میں اپنےگاہکوں سے سودا بازی میں مصروف ہیں اور ان کے گاہکوں کی اکثریت خواتین کی ہے۔ ان خواتین کو امید ہے کہ وہ مقامی بازار میں یہ مچھلی فروخت کر کے اپنے لیے تھوڑا بہت منافع بنا لیں گیں۔

لیکن کینیا کے اس غریب ترین علاقے میں مچھیروں اور ان کی گاہکوں کے درمیان لین دین میں پیسے کا استعمال کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔یہاں چلنے والا سکہ سیکس یا جنسی تعلق ہے۔ یہاں عورتیں اس امید پر کہ واپسی پر ان کے پاس بیچنے کو بہت اچھی مچھلی ہوگی، اپنے جسم فروخت کر رہی ہیں۔

مچھلی لینے کے لیے جنسی تعلقات قائم کرنے کو مقامی زبان میں’جابویا‘ کہا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ سے لیک وکٹوریہ کے علاقے میں ایچ آئی وی ایڈز پھیل رہی ہے۔

Image caption مچھلی حاصل کرنے کے لیے جنسی تعلقات کے اس رواج سے بیواؤں کے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے

پینتیس سالہ لُوسی اوڈہامبو اس مچھلی کو صاف کر رہی ہے جو اس نے تھوڑی دیر پہلے ہی خریدی ہے۔ بیوہ اور پانچ بچوں کی ماں لُوسی کا کہنا ہے کہ یہاں عورتیں جنس فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔’ میں مچھلی کے بدلے میں سیکس بیچنے پر مجبور ہوں کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ عموماّ ہر ہفتے میں ایک یا دو مچھیروں کے ساتھ سوتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ میں بیمار ہو سکتی ہوں لیکن میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں۔ مجھے اپنے بچوں کو سکول بھی بھیجنا ہے۔ جابویا ایک شیطانی کام ہے۔‘

کینیا کے دیگر علاقوں کی نسبت یہاں پر ایڈز کی شرح قومی اوسط سے دُگنی یعنی تقریباّ 15 فیصد ہے اور اس فرق کی بڑی وجہ ’ جنس برائے مچھلی‘ ہی ہے۔

کچھ عرصے سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے مہم شروع کی ہے جن میں کینیا کے تحقیق اور بین الاقوامی ماحولیاتی ترقی کے لیے کام کرنے والا ادارہ وکٹیوریا بھی شامل ہے۔ یہ ادارہ خواتین کو اپنی کشتی دیتا ہے، جس کی قیمت وہ مچھلی کا شکار کر کے ادا کر سکتی ہیں۔

ادارے کے اہلکار ڈین ابٹو کا کہنا تھا کہ’ کشتیوں کی قیمت کے بدلے میں جو ادائیگی ہو گی اسے جمع کر کے مزید کشتیاں بنائی جائیں گی۔‘

انھوں نے اخبار دی سٹار کو بتایا کہ’اس مہم کا مقصد’جابويا‘ کو عوامی صحت کے لیے خطرہ قرار دینا، غربت کو کم کرنا ہے اور اس کے ساتھ معاشی حالت اور ماحولیات میں بہتری لانا ہے۔‘

مچھلی حاصل کرنے کے لیے جنسی تعلقات کے اس رواج سے بیواؤں کے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ان پر خاندان کا بوجھ بھی ہو۔

Image caption مجھے مردوں پر انحصار کی ضرورت نہیں۔ اب میں اپنا بچاؤ کر سکتی ہوں: اینگس اُوما

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے خواتین کو کشیتاں دینے سے نہ صرف جنسی تعلقات قائم کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ اس سے ایڈز کے پھیلاؤ میں بھی کمی آئے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے خیال میں جھیل وکٹوریہ کے ارد گرد بھی آہستہ آہستہ تبدیلی آ رہی ہے۔ ’اینگس اُوما نامی خاتون نے مجھے ایک کشتی دکھائی جس کی مالک وہ خود ہے اور اس نے مرد مچھیروں کو بطورِ ملازم رکھا ہے۔‘

اینگس جو مچھلی پکڑتی ہے اسے فروخت کر کے کچھ تو مچھیروں کی مزدوری کی شکل میں نکل جاتا ہے، کچھ اس قرضے کی ادائیگی میں جس سے اس نے یہ کشتی خریدی ہے اور باقی پیسے وہ اپنے لیے رکھتی ہے۔

اینگس کی کشتی ایک مقامی خیراتی ادارے ’وائرڈ‘ کی ایک سکیم کا حصہ ہے۔ مقامی خواتین کا کہنا ہے کہ امریکی امداد سے چلنے والا یہ ادارہ ان کی زندگی بدل رہا ہے۔

اینگس اُوما کا کہنا تھا کہ کہ ’اس پراجیکٹ کا مطلب یہ ہے اب اپنا کاروبار زندگی چلانے کے لیے مجھے مردوں پر انحصار کی ضرورت نہیں۔ اب میں اپنا بچاؤ کر سکتی ہوں۔ اور اب جب میں اپنی کشتی کی قسط ادا کرتی ہوں تو میرا ضمیر صاف ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں