نیپال مسافر طیارے کے حادثے میں 18 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption نیپال میں ہوائی جہازوں کی پروازوں کا آغاز 1949 میں شروع ہوا تھا اور تب سے 70 مختلف حادثات میں 700افراد ہلاک ہوئے ہیں

نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو لاپتہ ہونے والے مسافر طیارہ کا ملبہ مغربی ضلعے آرگاخانچی سے مل گیا ہے۔ طیارے پر سوار 18 افراد میں سے کوئی نہیں بچا۔

نیپال کی قومی ایئر لائن کا یہ جہاز پوخارا شہر سے جُملا کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

ایوی ایشن کے ایک افسر کے مطابق جہاز بظاہر ایک پہاڑی سے ٹکرایا ہے۔

جہاز کی تلاش کے لیے جاری کارروائی کے دوران ایک ہیلی کاپٹر پر سوار عملے نے جہاز کا جلتا ہوا ملبہ دیکھا۔

نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ریسکیو کو آرڈینیٹر بیملیش لال کرنا کے بقول ’سرچ ہیلی کاپٹر نے اطلاع دی ہے کہ اس نے مسافر طیارہ کا ملبہ تلاش کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے جہاز کے پچھلے حصے میں آگ لگی ہوئی دیکھی۔ ‘

انہوں نے بتایا: ’ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ وہاں کسی کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہیلی کاپٹر اس علاقے میں نیچے نہیں اتر سکتا اس لیے اب زمینی امدادی ٹیمیں علاقے تک جائیں گی۔

کٹھمنڈو میں حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈین ساختہ اس جہاز سے پرواز کے کچھ دیر بعد ہی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

مسافر طیارے پر ایک بچے سمیت 15 مسافر اور عملے کے تین ارکان سوار تھے۔ یہ جہاز کٹھمنڈو سے اڑا تھا اور پوخارا میں ایندھن بھروانے کے لیے رکا تھا۔

مسافروں میں سے ایک کا تعلق ڈنمارک سے بتایا گیا ہے۔

ناقدین کے مطابق نیپال میں ہوائی جہازوں کی مناسب مرمت نہیں کی جاتی۔

گذشتہ برس دسمبر میں یورپی یونین نے نیپال کی قومی ایئر لائن کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے حفاظتی بنیادوں پر اس کے جہازوں کی یورپی فضائی حدود سے پرواز کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

نیپال میں 13 نجی ہوائی کمپنیاں اور 50 ہوائی اڈے ہیں۔ پیشتر ہوائی اڈے پاڑوں سے گھرے مشکل علاقوں میں بنائے گئے ہیں جہاں سڑکیں نہیں جاتیں اور موسم بھی ابر آلود رہتا ہے۔

ستمبر 2012 میں نیپالی کمپنی کے جہاز کو پیش آنے والے حادثے میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی برس مئی میں ہندو زائرین کو لے جانے والے جہاز کے حادثے میں بھی 15 افراد ہلاک ہوئے۔

نیپال میں ہوائی جہازوں کی پروازوں کا آغاز 1949 میں ہوا تھا اور تب سے 70 مختلف حادثات میں 700 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں