سعودی عرب میں پہلی دفعہ خاتون مدیرِ اعلیٰ تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میرے اقدامات کا اثر میرے ساتھی سعودی خواتین پر پڑے گا: سمیہ

سعودی عرب میں پہلی دفعہ ایک خاتون کو ایک اخبار کا ایڈیٹر بنایا گیا ہے۔

انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اخبار سعودی گزٹ نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ مستعفی ہونے والے مدیر اعلیٰ خالد المینا کی جگہ سمیہ جبارتی کو تعینات کیا گیا ہے۔

خالد المینا نے اتوار کو اخبار میں لکھا کہ سمیہ کو یہ عہدہ اپنی قابلیت پر ملا ہے اور وہ ایک پرعزم اور محنتی صحافی ہیں۔

دریں اثنا سمیہ نے کہا کہ ’شیشے کی چھت میں دراڑ بنا دی گئی ہے، اور مجھے امید ہے کہ یہ ایک دروازے میں تبدیل ہو جائے گی۔‘

انھوں نے العربیہ نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ انھیں احساسِ ذمہ داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے اقدامات کا اثر میرے ساتھی سعودی خواتین پر پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں سعودی گزٹ میں کام کے دوران جنسی امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

سمیہ نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ ’ہمارے زیادہ تر رپورٹر خواتین ہیں لیکن یہ اس وجہ سے نہیں کہ ہم خواتین کو مردوں پر ترجیح دیتے ہیں، بلکہ زیادہ تر خواتین صحافت میں دلچسپی رکھتی ہیں اور زیادہ تعداد میں خواتین صحافی ہیں۔‘

سمیہ سنہ 2011 میں گزٹ کے ساتھ بطور نائب مدیر اعلیٰ کام کرنے سے پہلے مخالف اخبار عرب نیوز میں کام کرتی تھی۔

خالد المینا عرب نیوز کے سنہ 1982 سے سنہ 1993 تک اور سنہ 1998 سے سنہ 2011 تک عرب نیوز کے مدیر تھے۔ انھوں سمیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انھوں نے تقربیاً 13 سال تک میرے ساتھ کام کیا اور میرا عرصے سے یہ مقصد تھا کہ زیادہ تر مردوں کے حصے میں آنے والے مدیرِ اعلیٰ کے عہدے پر کسی خاتون کو کام کرتے دیکھوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے یہ عہدہ صنف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر حاصل کیا۔‘

اسی بارے میں